بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
بہو کے لئے بیمار سسر کی خدمت کا حکم
سوال
اگر ایک شخص اس طرح بیمار ہو جائے کہ خود کھانا کھانے ،استنجاءاور وضوء وغیرہ کرنے پر قادر نہ ہو اور ان میں دوسروں کا محتاج بن جائے اوربیوی بھی کمزوری کی وجہ سے خدمت نہیں کرسکتی ،البتہ اس کے بیٹے موجود ہوں،تو بیٹے کی موجودگی میں کیا بہو اس مریض سسر کی باطنی خدمت (استنجاء وغیرہ )کرسکتی ہےیا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کسی شخص کو اس طرح عذر پیش آئے کہ خود وضو پر قادر نہ ہوتو و ہ دوسرے سے مدد حاصل کرسکتا ہے،تاہم استنجاء میں مرد کے لئے اپنی بیوی اور عورت کے لئے اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور سے مدد لینا جائز نہیں،اگر بیوی ہے تو اس سے وضو بھی کرائے اور استنجاء بھی اور اگر بیوی نہیں تو بیٹے ،بھائی وغیرہ سے وضو کروائے اور استنجاء خود جس حد تک کرسکتا ہے کرےاس سے آگے اس کے لئے معاف ہےاسلئے کہ سترکا چھپاناواجب ہے ،بیوی کے علاوہ کسی کو بھی ناف سے لے کر گھٹنوں تک بدن دکھانا جائز نہیں البتہ شدید ضرورت وحاجت کے موقع پر بقدر ضرورت دیکھنا جائز ہے۔
صورت مسؤلہ میں اگر واقعی بیوی کمزوری کی وجہ سے خدمت نہیں کرسکتی تواس صورت میں اس سے استنجاء کا حکم ساقط ہوجائے گااور بہو کے لئے ہرگزجائز نہیں کہ وہ سسر کا استنجاء کرائے،البتہ اگر شدید ضرورت وحاجت ہو اورایسا موقع آجائے کہ ستر کھولے بغیرکوئی چارہ نہ ہو تو بیٹوں میں کوئی یہ خدمت کرے،نیز جہاں تک ہوسکے ستر کے مواضع کو نہ دیکھے۔
"يحلّ للرجل أن ينظر من الرجل الأجنبيّ إلى سائر جسده إلّا ما بين السرّة والركبة إلّا عند الضرورة،فلا بأس أن ينظر الرجل إلى موضع الختان ليختنه و يداويه."(بدايع الصنائع،كتاب الاستحسان،ج:6،ص:497)
"الرجل المريض إذا لم يكن له امرأة ولا أمة ،وله ابن أو أخ و هو لا يقدر على الوضوء،فإنّه يوضّئه ابنه،أو أخوه غير الاستنجاء؛فإنّه لا يمسّ فرجه. وسقط عنه الاستنجاء."(الفتاوى الهندية،كتاب الطهارة،الباب السابع في النجاسة،الفصل السابع في الاستنجاء،ج:1،ص:105)