بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مدرسہ میں زکوۃ کی رقم خرچ کرنےکی مختلف صورتیں


سوال

مدرسہ میں  مدرسہ کے مہمان یا طلبا کے سرپرست آتے ہیں ،زکوۃ کی رقم ان پر خرچ کی جاتی ہے،کیا یہ  درست ہے؟اسی طرح مدرسہ کے پروگرموں  میں مہمانوں پر خرچ کرناکیسا ہے؟نیز ان رقوم سے اسی مجمع کے لیے کھانا بنایا جاتاہے اور مدرسہ کے شوری کے اجلاس  میں اکرام  کیا جاتا ہے،کیا ایسا کرنا شریعت کی رو سے صحیح ہے؟

جواب

صدقات نافلہ کی رقم مدرسہ کی تمام  ضروریات میں خرچ ہو سکتی ہے،لیکن صدقات واجبہ  میں یہ ضروری ہے کہ مستحق کو اس رقم  کا باقاعدہ مالک بنایا جائے،پھر وہ اپنی مرضی سے اخراجات کے لیے مدرسہ کے ارباب اختیار کو دے دے،تو اس میں ملکیت تام ہوکر واپسی پر یہ رقم مدرسہ کے ہر مد میں خرچ کی جاسکتی ہیں ۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق صدقات واجبہ کی رقوم تملیک کے بعد مدرسہ میں مدرسہ کے مہمان یا طالب علم کے سر پرست پر خرچ کرنا جائز ہے۔اسی طرح مدرسہ کے مفاد میں منعقد کیے گئے پروگرام یا اجلاس میں مہمانوں پر خرچ کرنا بھی شرعاًجائز ہے۔جب کہ تملیک کے بغیر صدقات واجبہ کو ان مقاصد میں استعمال کرنا جائز نہیں۔

 

ويشترط أن يكون الصرف (‌تمليكا) ‌لا ‌إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه).(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب الزكوة ،باب مصرف الزكوة ،ج3،ص:291)

وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه  الأشياء.(الدر المختار على صدر ردالحتار،كتاب الزكاة،باب المصرف،ج:3،ص:294)


فتویٰ نمبر : 9958/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور