بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

زکوۃ کی رقم اساتذہ کو تنخواہ میں دینا


سوال

مہتمم صاحب  نے اساتذہ سے کہا ہواہے کہ زکوۃ وصول کرکے تنخواہ میں رکھ لیں یا اساتذہ خود زکوۃ وصول کرکے تنخواہوں میں لکھوادیتے ہیں، یہ شرعاً درست ہے یانہیں ؟

جواب

زکوۃ کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ مستحق کو بغیر کسی  عوض کے  بطور مالک دے دیا جائے۔اگر عوض کے بدلے دیا جائے تو اس سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔

صورت مسئولہ میں مہتمم کا اساتذہ سے یہ کہنا کہ زکوۃ کی رقم تنخواہ میں رکھ لیں یا اساتذہ کا خود زکوۃ وصول کرکے تنخواہوں میں لکھوادینا شرعاًدرست نہیں ۔اس  سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی،اس لیے کہ مدرسین کو تنخواہ بطور معاوضہ دی جاتی ہے،جو تملیک بلا عوض نہیں ہے۔بہتر یہ ہے کہ صدقات نافلہ سے  مدرسین کی تنخواہ کا بندوبست کیا جائے۔تاہم اگر صدقات واجبہ سے تنخواہ دینے کی ضرورت پیش آجائے ،تو پہلے مستحق طلبہ سے تملیک کروائی  جائے۔یعنی  مستحق طلبا کو صدقات واجبہ کی  رقوم ملکیتاً دے کر پھر اخراجات کی مد میں ان سے  وصول کیاجائے ۔

 

ويشترط أن يكون الصرف (‌تمليكا) ‌لا ‌إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه).(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب الزكوة ،باب مصرف الزكوة،ج:3،ص:291)

ولو دفعها ‌المعلم ‌لخليفته إن كان بحيث يعمل له لو لم يعطه صح، وإلا لا.(الدرالمختار على صدر رد المحتار،كتاب الزكاة،   باب المصرف، ج:3،ص:308)

‌وحيلة ‌التكفين بها التصدق على الفقير ثم هو يكفن فيكون الثواب لهما، وكذا في تعمير المسجد.(الدر المختار مع ردالمحتار،كتاب الزكاة،ج:3،ص:191)


فتویٰ نمبر : 9957/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور