بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

قبلہ رخ تھوکنے کا حکم


سوال

قبلہ رخ تھوکنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

قبلہ (بیت اللہ شریف ) شعائراللہ میں سے ہے یعنی اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جس کی تعظیم کرنا ہرمسلمان پرواجب ہے۔

لہذاقبلہ کی طرف منہ کرکے تھوکنا تعظیم اورادب کے خلاف ہے، حدیث شریف میں مروی ہےکہ جس شخص نے قبلہ کی طرف تھوکا، قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کا تھوک اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان یعنی پیشانی پر ہوگا۔ لہذا تھوکتے وقت احتیاط کرنا چاہیےکہ قبلہ رخ نہ تھوکا جائے، تاہم دل میں قبلہ کی عظمت ہونے کے باوجود اگرکوئی غیر ارادی طورپرقبلہ کی طرف تھوکے، توامید ہے کہ اس پرمؤاخذہ نہ ہوگا۔

 

قال الله تعالى:﴿ذَٰلِكَۖ وَمَن يُعَظِّمۡ شَعَٰٓائِرَ ٱللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقۡوَى ٱلۡقُلُوبِ﴾ (سورۃ الحج، آیت:32)

قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌تفل ‌تجاه القبلة جاء يوم القيامة تفله بين عينيه، ومن أكل من هذه البقلة الخبيثة فلا يقربن مسجدنا ثلاثا.»(سنن أبي داؤد، باب في أكل الثوم، ج:2، ص:179)


فتویٰ نمبر : 5796/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور