بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

جی ون لہسن کی ادھار بیع کرنا


سوال

جعفر جی ون لہسن بوتا ہے اور خرم  کے ساتھ سودا کرتا ہے کہ   جب فصل تیار ہو جائے گی تو میں آپ کو چار ہزار کلو لہسن دوں گا اور ریٹ فکس  کر لیتا ہے کہ فی کلو 2250   روپے کا ہو گا ، اور کچھ  رقم ایڈوانس بھی لے لیتا ہے کیا اس طرح سودا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

خریدو فروخت میں جب رقم ایڈوانس دے کر مبیع ( فروخت کی جانے والی چیز ) بعد میں حوالہ کیے جانے کا معاملہ ہو تو اس کو فقہا کی اصطلاح میں بیع سلم کہا جاتا ہے ۔ جس کے لیے درجہ ذیل شرائط کا ہونا ضروری ہے ۔:

1۔مبیع کی جنس معلوم ہو،جیسے: گندم ،جو ، چاول ،لہسن وغیرہ

2۔نوع معلوم ہو، جیسے: بارانی  گندم  یا سیراب شدہ زمین کی گندم وغیرہ

3۔صفت معلوم ہو ،جیسے :عمدہ  یا کمزور

4۔مقدار معلوم ہو ۔

5۔رأس المال (قیمت )متعین ہو۔

6۔رأس المال پر مجلس عقد میں ہی قبضہ ہوا ہو ۔

7۔مبیع حوالے  کرنے کی مدت متعین ہو ۔

8۔مبیع کی حوالگی کا مقام متعین ہو ۔

9۔کسی معین چیز کو مبیع نہ بنایا جائے ۔مثلا مخصوص  کھیت کی فصل  یا مخصوص درخت کا پھل ۔

صورت مسئولہ میں بیان کردہ عقد صورتًا  بیع سلم کی طرح ہے لیکن سلم کی شرائط میں سے نہ تو رأس المال  ( قیمت )مجلس عقد میں ادا کرنے کی شرط پوری ہے کیونکہ بیان کردہ عقد میں ایڈوانس کچھ رقم دینے کا ذکر ہے  جبکہ عقد   سلم میں پورے رأس المال کا مجلس عقد میں ادا کرنا لازم ہوتا ہے ،اسی طرح  اگر مخصوص  فصل  میں سے دینے کا معاہدہ ہو تو یہ شرط بھی جائز  نہیں ۔بہر حال یہ عقد جائز نہیں ، البتہ جواز کی یہ صورت  ہو سکتی ہے  کہ بیع سلم کی تمام شرائط کا لحاظ رکھ عقد کیا جائے یا وعدہ بیع کی صورت اختیار کی جائے  جس میں صرف  بیع کا وعدہ کیا جائے اور بعد میں حوالگی کا وقت آ ئے  تو  ایجاب و قبول کر کے عقد کیا جائے ۔ لیکن بوقت عقد یہ واضح کر لیا جائے کہ ابھی ٖصرف وعدہ بیع ہو رہا ہے بعد میں ایجاب و قبول کیا جائے گا۔

 

قال الله تعالى : وأوفوا بالعهد إن العهد كان مسئولا ـ (الإسراء:34)

وشرائطه: تسمية الجنس والنوع والوصف والأجل والقدر ومكان الإيفاء إن كان له حمل ومؤونة، وقدر رأس المال في المكيل والموزون والمعدود، وقبض رأس المال قبل المفارقة. ( الإختيار لتعليل المختار، كتاب البيوع، باب السلم، ج:2، ص:34)

(وما لا تصح ) إضافته (إلى المستقبل) عشرة (البيع وإجازته وفسخه والقسمةوالشركةوالهبة والنكاح والرجعة والصلح عن مال و الإبراء عن الدين) لأنها تمليكات للحال فلا تضاف للاستقبال۔ (الدر المختار، فرع، ج 5، ص 256)

بيع العربون أن يدفع المشتري للبائع شيأ على أنه أن رضيه فمن الثمن وإلا فهبة وهو باطل عند الثلاثة دون أحمد. (التیسیر بشرح الجامع الصغیر، حرف العین، ج:2، ص:154)

والمبيع بيعاً فاسداً يملك بالقبض فإذا باعه بعد القبض وجب أن يجوز. (فتاوى قاضي خان، كتاب الشرب، فصل في الأنهار، ج:3ِ ص:108)


فتویٰ نمبر : 3538/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور