بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ملازم كا حکومت کی طرف سے ملنے والے موبائل كو ضائع كرنا


سوال

سکول کے ہیڈ ماسڑ کو حکومت کی طرف سے استعمال کے لیے موبائل مل جائے اور پھر  اس موبائل کی اسکرین  اس ملازم کے بیٹے  سے ٹوٹ جائے اب اس موبائل کیا  ا سکرین بازار میں نہیں ملتی تاکہ اس کو صحیح کیا جا سکے تو اب اس موبائل کو اس ہی حالت میں واپس کر ے گا  یا اس دن کی قیمت ادا کرے گا جس دن خریدا تھا یا موجودہ قیمت ادا کرے گا ۔كیا سیکنڈ ہینڈ موبائل اس کے بدلے میں خرید کر دے سکتا ہے؟

جواب

حکومت اور ادارے کی طرف سے ملازم کو  جو چیز استعمال کے لیے دی جاتی ہے وہ ملازم کے پاس امانت  ہوتی ہے ۔ اما نت کے ضائع ہونے پر امین  ضامن اس وقت ہوگا ،جب   امانت کے ضائع ہونے میں امین کاعمل دخل ہو یعنی امانت  امین کی تعدی یا غفلت کی وجہ سے ضائع ہو جائے تو پھراس کا ضامن ہو گا ۔

  صورت مسئولہ کی مطابق  جب  موبائل کی اسکرین ملازم  کے بیٹے سے ٹوٹی تو یہ ملازم کی  غفلت اور  کو تاہی ہے لہذا  اب ضمان اس پر لازم ہو گا لہذا  اس کی موجودہ قیمت ادا کرے گا۔

 

الوديعة أمانة فى يدالمودع ،فإذا هلكت بلاتعد منه،وبدون صنعه وتقصير فى الحفظ لا يضمن.(شرح المجلة،الفصل الثاني في احكام الوديعة، رقم المادة:777)

اذا هلكت الوديعة او نقصت قيمتها بتعدي المستودع او بتقصيره لزمه الضمان ( شرح المجلة : الفصل الثاني في احكام الوديعة ،     رقم المادة:787)

الوديعة متى وجب ضمانها ، فإن كانت من المثليات ، تضمن بمثلها ،و إن كانت من القيميات تضمن بقيمتها يوم لزوم الضمان. (شرح المجلة، رقم المادة:803)


فتویٰ نمبر : 5771/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور