بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

زنا سے حاملہ عورت سے نکاح کے بعدپیدا ہونے والے بچے کا نسب


سوال

ایک مرد اور عورت نے زنا کیااور اس سے عورت کا حمل ٹھہرااور بعد میں ان دونوں نے نکاح کیا ،اب اس بچے کا کیا حکم ہوگا ولد زنا ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زنا سے نسب ثابت نہیں ہوتا ،لیکن جس زانی سے مزنیہ کا حمل ٹھہرا ہےاگر وہ دونوں آپس میں  نکاح کرلیں اور نکاح کے بعد بچے کی پیدائش ہوجائےتواگر یہ بچہ نکاح کے بعدچھ ماہ یا زائد مدت گزرنےکے بعد پیدا ہوجائے تو اس بچے کا نسب اس آدمی سے ثابت ہوگا ،لیکن اگر نکاح اور ولادت کے درمیان چھ مہینے سے کم مدت ہوتو  ایسی صورت میں بچے کا نسب اس آدمی سے ثابت نہ ہوگا بلکہ ولد زنا متصور ہوگا،   البتہ اگر یہ آدمی خود یہ دعویٰ کرے کہ یہ میرا بچہ ہے تو اس صورت میں قضاء ًنسب ثابت ہو جائے گا بشرط یہ کہ وہ یہ نہ کہے کہ میرے زنا کرنے سے پیدا ہواہے، چنانچہ اگر دعویٰ میں یہ کہا کہ میرے زنا سے پیدا ہوا ہے تب بھی نسب ثابت نہیں ہوگا۔

صورت مسؤلہ میں اگر اس مزنیہ سے نکاح کرنے کے بعدچھ  ماہ یااس سے زائد مدت میں بچہ پیدا ہوجائے تو اس بچے کا نسب اس شخص(زانی) سے ثابت ہوگا ،اور اگر چھ ماہ سے کم مدت میں بچے کی ولادت ہوگئی تو اس بچے کا نسب اس آدمی سے ثابت نہیں ہوگا بلکہ ولد زنا متصور ہوگا۔ ،البتہ اگر وہ یہ دعویٰ کرے کہ میرا بیٹا  ہے اور یہ نہ کہے کہ میرے زنا کرنے سے پیدا ہوا ہے تب بھی قضاءًاس بچے کا نسب اس سے ثابت ہوگا۔

 

"إذا زنىٰ رجل بإمرأة فجاءت بولد فادّعاه الزاني لم يثبت نسبه منه،وأمّا المرءة فيثبت نسبه منها".(الفتاوىٰ الهندية،كتاب الدعوىٰ،الباب الرابع عشر،الفصل الثامن في دعوةالولد من الزنا،ج:4،ص:131)

 "ولو زنىٰ بإمرأةفحملت،ثمّ تزوّجها،فولدت،إن جاءت به لستّة أشهرفصاعداً،ثبت نسبه،وإن جاءت به لأقلّ من ستّة أشهر لم يثبت نسبه إلّا أن يدّعيه،ولم يقل إنّه من الزنا،أمّا إن قال إنّه منّي من الزّنافلا يثبت نسبه ولا يرث منه".

(الفتاوى الهنديه،كتاب الطلاق،الباب الخامس عشرفي ثبوت النسب،ج:1،ص:591)


فتویٰ نمبر : 9953/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور