بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
کیڑوں والے پھل جانوروں کو کھلانے، پر اشکال کا جواب
سوال
آپ کے دیے ہوئے ایک فتویٰ میں پڑھا کہ اگر کیڑے میں جان پڑ گئی ہو تو وہ پھل جانوروں کو کھلانا جائز نہیں کیونکہ حرام چیز جانور کو کھلانا ناجائز ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیاحلال حرام کا حکم انسانوں کے لئے ہے یا جانوروں کے لئے؟ہماری دیسی وطنی مرغیاں کوڑے کےڈھیروں پر پھرتے ہوئے کیڑے مکوڑے ، مردار جانور، حرام اشیاء پاخانہ پیشاب کھا پی لیتی ہیں۔ اگر اس مرغی کا کھانا شرعا جائز ہے تو ہم اگر فیڈ میں کھلا دیں تو حرام یا ناجائز کیوں ہوا۔ اس طرح چڑیا یا دیگر کئی پرندے روزانہ سینکڑوں حشرات کھاتے ہیں مگر ان کا شکار کرنا اور کھانا بھی حلال ہے۔
جواب
واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں جس چیز کا کھانا حرام ہے اسے دوسروں کوکھلانا بھی ممنوع ہے خواہ انسان ہو یا جانور۔نیز حلال و حرام کے احکامات مکلفین (انس و جن) کے لیے ہیں جانوروں کے لیےنہیں لیکن انسان اس کا مکلف ہے کہ وہ جانور کو قصدًا حرام نہ کھلائے۔
لہذا مرغیوں کو حرام اشیاءسے تیار کردہ فیڈ کھلانا ناجائز ہے البتہ اگر وہ خود کھائیں تو چونکہ وہ مکلف نہیں اس لیے اس پر کوئی حکم لاگو نہیں ہوتا،اسی طرح اگر مرغیوں کو حرام غذا کھلائی جائے یا وہ خود کھائے تو اگران کے گوشت میں کسی قسم کی بدبو پیدا نہ ہو تو ان مرغیوں کوکھانا بلا کراہت جائز ہوگا اور اگر اس کی وجہ سے ان کے گوشت میں بدبو پیدا ہوگئی ہو تو جب تک بدبو زائل نہیں ہوجاتی اس وقت تک ایسی مرغیوں کوکھانا مکروہ ہوگا،نیزیہی حکم ان پرندوں کے بارے میں بھی ہے جو حرام اشیاءکھاتےپیتےہیں۔
وإذا تنجس الخبز أو الطعام لا يجوز أن يطعم الصغير أو المعتوه أو الحيوان المأكول اللحم، وقال أصحابنا:لا يجوز الانتفاع بالميتة على أي وجه، ولا يطعمها الكلاب والجوارح كذا في القنية".(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب الثانى عشر:في الهدايا و الضيافات،ج:5،ص:398)
(و كره۔۔۔لبن (الجلالة)التي تأكل العذرة (و) لبن (الرمكة) أي الفرس و بول الإبل۔۔۔(و(کرہ (لحمهما) أی لحم الجلالۃ والرمکۃ، وتحبس الجلالۃ حتی یذهب نتن لحمها۔۔۔ ولو أکلت النجاسۃ وغیرها بحیث لم ینتن لحمها حلت۔(الدر المختار،كتاب الحظر و الاباحة،ج:9،ص:491)
و في المنتقى: الجلالة المكروهة التي إذا قربت وجدت منها رائحة فلا تؤكل ولا يشرب لبنها(رد المحتار، كتاب الحظر و الاباحة،ج:9،ص:491)