بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مدرسہ کے سولر پینل اور بیٹریوں سے پیدا ہونے والی بجلی کو گھر میں استعمال کرنا


سوال

اگر کوئی شخص کسی خرابی کی صورت میں مدرسہ کے وقف شدہ سولر پینلز اور بیٹریوں کی مرمت اپنی جیب سے کرواتا ہے تو کیا اس کے لیے مدرسہ کے سولر پینلز اور بیٹریوں سے اپنے گھر میں بجلی استعمال کرنا حلال ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ وقف شدہ اشیاء کا استعمال واقف کی شرائط کے مطابق لازم ہے اگرواقف نے  سولر پینل اور بیٹریاں مدرسے میں پڑھنے اور پڑھانے والوں اور مدرسہ کےدیگر مصالح کے لیےوقف کی ہوں توان کی بجلی کو مدرسے کے علاوہ جگہوں میں  استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔نیز اگر کوئی شخص وقف شدہ اشیاء پر پیسے اس نیت سے لگائےکہ بعد میں وصول کر وں گا تو دیانتاًاس کووقف کے حاصلات سے ان پیسوں کے وصول کرنےکا حق حاصل ہے۔

صورت مسؤلہ میں مدرسےکے لیے وقف شدہ سولر پینل اور بیٹریوں کی بجلی اگر واقف نے مدرسہ کے لیے وقف کی ہو تو اس کی بجلی کو گھر میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں، البتہ  اگر کوئی شخص خرابی کی صورت میں مدرسہ کے وقف شدہ سولر پینل اور بیٹریوں کی مرمت اس  شرط پرکرتا ہےکہ یہ رقم وصول کرے گا تو مدرسے کے منتظم سے اس کے پیسے وصول کر سکتا ہےلیکن اس کی بنا پر سولر کی بجلی کو استعمال نہیں کر سکتا۔

 

‌شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به.(رد المحتار على الدر المختار،مطلب في وقف المنقول قصدا،ج:4،ص:366)

إذا ‌أنفق ‌من ‌مال ‌نفسه ‌على ‌عمارة ‌الوقف ليرجع في غلته له الرجوع ديانة۔(البحر الرائق شرح کنز الدائق،کتاب الوقف، الإستدانۃ لأجل العمارة في الوقف،ج:5،ص:229)


فتویٰ نمبر : 5805/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور