بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

انٹر نیٹ فراہم کرکے اس کی آمدنی کا حکم


سوال

میرا اپنا وائی فائی ہےمیرے ساتھ اور دکاندار ہیں وہ مجھ سے وائی فائی کا کوڈ مانگتے ہیں اورکہتے ہیں کہ بل جتنا بھی آئے گا وہ سب پر تقسیم کرینگے بعض کہتے ہیں کہ کوڈ دےدو، اورمہینہ کے آخر میں ہر ایک آپ کوہزار ہزار روپے دینگے تواس طرح  کوڈدینااورروپے لینا کیساہے، اور اگر دوسرے دکاندار اس پر فلم گانے وغیرہ دیکھتے ہیں یا بلکل پتہ نہیں چلتا کہ کیادیکھتےہیں تو اس میں میں گناہ گار ہوں گا یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ جس چیز کی ساخت کا اصل مقصد حرام اور ناجائز کام میں استعمال نہ ہو، البتہ جائزاورناجائز دونوں میں استعمال کیا جاسکتا ہو،توا س کی خرید وفروخت، اجارہ یا کاروبار بلاکراہت جائز ہے۔

صورت مسئولہ میں دکاندار کادوسرے لوگوں کو وائی فائی کا کوڈ دینا اور مہینہ کے آخر میں ان  سے پیسے لینا جائزہے کیونکہ انٹرنیٹ کا اصل مقصد غلط نہیں، تاہم اگر کسی کے بارے میں قطعی علم ہو کہ یہ اس کو غلط مقصد کے لیے استعمال کرےگا تو اس کو یہ سہولت فراہم نہ کی جائے۔

 

وعرف بهذا أنه ‌لا ‌يكره ‌بيع ‌ما ‌لم تقم المعصية به كبيع الجارية المغنية والكبش النطوح والحمامة الطيارة والعصير والخشب الذي يتخذ منه العازف.(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الجهاد، باب البغاة، مطلب في كراهية ما تقوم المعصية بعينه، ج:6، ص:421)


فتویٰ نمبر : 5797/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور