بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

زکوٰۃ کی ادائیگی میں قیمت خرید اور فروخت کے درمیان تفاوت


سوال

زکوۃ کی ادائیگی میں قیمت فروخت کا اعتبار ہوتا ہے لیکن بسا اوقات قیمت خرید اور قیمت فروخت کے درمیان بہت زیادہ تفاوت ہوتا ہے مثلا ایک چیز ڈھائی تین سو روپے کی خریدی جاتی ہے اور مارکیٹ میں وہ تین چار ہزار تک بکتی ہے تو کیا اس صورت میں بھی قیمت فروخت کا اعتبار ہوگا؟اور اسی طرح بعض چیزیں مثلا گاڑیوں کا سامان کباڑ میں انتہائی سستی قیمت پر یا بالکل مفت مل جاتا ہے اور جب وہ کسی کو ضرورت پڑتی ہے تو بہت زیادہ پیسوں پر بکتی ہے مثلا کوئی چیز چھ سات سو روپے کی کباڑ میں مل گئی اور جب کسی ضرورت مند کو ضرورت پڑی تو وہ پچیس سو تک بخوشی خرید لیتا ہے لیکن یہ موقع کی بات ہوتی ہے کہ کسی کو اس کی ضرورت پڑ جائے تو تب بکتی ہے تو کیا اس صورت میں بھی قیمت فروخت کے حساب سے زکوۃ ادا کی جائے گی؟

جواب

واضح رہے کہ سامان تجارت میں زکوۃ کی ادائیگی کے حوالے سے قیمت فروخت کا اعتبار ہے،یعنی جو سامان تجارت موجود ہے تو زکوۃ کی ادائیگی کے وقت اس کی قیمت فروخت کے حساب سے زکوۃ ادا کی جائے گی ۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ قیمت فروخت  میں بعض اوقات بہت بڑا تفاوت ہوتا ہےجس کی وجہ سے قیمت فروخت متعین نہیں ہوسکتی ،تو اس صورت میں ان اموال کی جو اوسط قیمت  فروخت لگتی ہے  اس کا اعتبار ہو گا یعنی سال کے اختتام پر مالک سامان کا محتاط طریقے سے اندازہ لگائے کہ میرے پاس موجود سامان معمول اور عادت کے موافق کس قیمت پر فروخت ہوسکتا اور پھر  اسی قیمت کے اعتبار سے زکوٰۃ ادا کرے۔

صورت مسئولہ کے مطابق   کوئی چیز تین چار سو کی خریدی ہو مگر وہ تین چار ہزار تک بازار میں  بکتی ہو ،تو اس صورت میں  اس سامان کا محتاط اندازہ لگایا جائے کہ اوسطا یہ سامان کس قیمت پر فروخت ہو سکتا ہے اور یوں قیمت فروخت کا محتاط اندازہ لگا کر زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔

 

(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه،(الدرالمختار، كتاب الزكوة ، باب زكوة الغنم ، ج:3 ص:211)

أن أبا حنيفة يعتبر القيمة ‌يوم ‌الوجوب فی جنس ھذہ المسائل، وهما يعتبران القيمة يوم الأداء۔۔۔ قلنا، قوله عليه السلام: «خذ من الإبل الإبل ومن البقر البقر» والدليل عليه أن في نصاب السوائم تعتبر القيمة يوم الأداء۔۔ فقياس عروض التجارة على السوائم أن تعتبر القيمة يوم الأداء۔(المحيط البرهاني،الفصل الثالث في بيان مال الزكوٰۃ،ج:2ص:394)


فتویٰ نمبر : 9978/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور