بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
اصل (رأس المال)اور منافع میں زکوۃ
سوال
ہمارے علاقہ کرنگ کوہستان میں کچھ علماء کے درمیان اختلاف ہوا ہےکہ دکان کی زکوۃ کس سے نکالی جائے اکثرعلماء کا یہی کہنا ہےکہ اصل اور نفع دونوں کی زکوۃ نکالی جائے گی جب کے ایک عالم کا کہنا ہے کہ صرف رأس المال کی زکوۃ ہے منافع کی نہیں اب آپ ہی ہمارے اس مسئلہ کو حل فرمائیں؟
جواب
واضح رہے کہ صاحب نصاب کی ملکیت میں سال کے دوران جو مال حاصل ہوچاہے جس سبب سے بھی حاصل ہو تو اس مال مستفاد پر سال کا گزرنا شرط نہیں بلکہ اصل نصاب سے ملا کر پورے مال کی زکوۃ ادا کی جائے گی۔
صورت مسئولہ میں جودکاندارصاحب نصاب ہو تو سال پورا ہونے پرموجود مال تجارت اور حاصل شدہ منافع یعنی رأس المال اورمنافع دونوں میں زکوۃ واجب ہوگی۔
ثم المستفاد في خلال الحول يضم إلى أصل النصاب بعلة المجانسة، وإن لم يكن متولدا من الأصل فالمتولد أولى. (المبسوط للسرخسي، كتاب الزكوة، ج:3، ص:48)
ولو كان الزيادة أوالنقصان في العين قبل الحول ثم حال الحول وهي كذالك، ففي الزيادة تجب الزيادة زائدة لأن تلك الزيادة مستفادة في خلال الحول فيضم إلى الأصل. (الفتاوى التاتارخانية، كتاب الزكوة، الفصل الثالث، ج:2، ص:103)