بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
گیسٹ پوسٹنگ کی شرعی حیثیت
سوال
ہم لوگ آن لائن ورک کرتے ہیں جسے گیسٹ پوسٹنگ کہتے ہیں ، گیسٹ پوسٹنگ ایس ای او کی ایک قسم ہے جس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جو بندہ اپنی ویب سائٹ بناتا ہے اسے اس ویب سائٹ کو گوگل کے پہلے پیج پر لانے کی کوشش کرتا ہے اس کے لیے مختلف طریقے ہیں ، ان میں سے ایک طریقہ گیسٹ پوسٹنگ کا ہے ، اس میں یہ ہوتا ہے کہ نیو ویب سائٹ والا ایک آرٹیکل لکھتا ہے اور اس میں اپنی ویب سائٹ کا لنک ایڈ کر دیتا ہے اور پھر اس آرٹیکل کو ایک بڑی ویب سائٹ پر پبلش کرواتا ہے جو پہلے سے گوگل پر رینک ہو اور یہ بڑی ویب سائٹ والا اس آرٹیکل کو لگانے کے کچھ پیسے لیتا ہے، ا س سے نیو ویب سائٹ والے کو فائدہ یہ ہوتا ہےکہ اس کی ویب سائٹ بھی رینک کرنے لگتی ہے ، فری لانسر دونوں ویب سائٹ والوں سے رابطہ کرتے ہیں بڑی ویب سائٹ سے کم پیسوں میں ڈیل کرتے ہیں اور چھوٹی ویب سائٹ والے کو زیادہ پیسوں میں بیچتے ہیں مثال کے طور پر فری لانسر بڑی ویب سائٹ والے کے پاس جاتا ہے اور اس سے ایک پوسٹ کے حساب سے 5000 میں ڈیل کر لیتا ہے اور چھوٹی ویب سائٹ والے سے 8000 لے لیتا ہے ا س سے اس کو 3000 کا پرافٹ ہو جاتا ہے ، کیا یہ کام شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ ان ویب سائٹس میں سے کچھ ویب سائٹس جوے ، شراب ،فلمز ، میوزک وغیرہ کی ہوتی ہیں کیا ان کے لیے بیک لنکس لے کر پیسے کمانا شرعاً جائز ہو گا یا نہیں ، ایسے ہی کچھ ویب سائٹس کپڑوں ، فیشن وغیرہ کی ہوتی ہیں جن پر لڑکیوں کی تصویریں بھی ہوتی ہیں یا غیر شرعی لباس وغیرہ بیچتے ہیں ، ایسے ہی کچھ ویب سائٹس انشورنس کے وکیلوں کی ہوتی ہیں جو انشورنس کمپنیوں سے انشورنس وصول کروا کے دیتے ہیں اور فوٹوگرافی کی ویب سائٹ ہوتی ہیں وغیرہ براہ مہربانی تفصیل کے ساتھ رہنمائی فرمائیں اور جو سوالات پوچھے گئے ان کا تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی خاص فرد، کمپنی یا ادارہ کی طرف سے کسی خاص وقت میں کام کرنے پر مامور نہ ہو، بلکہ وہ عام لوگوں کو اجرت کے عوض خدمات دے رہا ہو، تو اس کواجیر مشترک کہا جاتاہے۔ اس کےلیے جائز خدمات کے عوض اجرت لینا جائز ہے، البتہ اجرت معلوم ہونا ضروری ہے، نیز ہر وہ چیز جس میں بذات خود کوئی گناہ ہو تو اس سے پیسے کمانا جائزنہیں، لیکن اگر اس میں بذات خود گناہ نہ ہو، بلکہ گناہ کےلیے سبب بن رہا ہو تو اس کی بیع کرنا مکروہ ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق گیسٹ پوسٹنگ کے طریقہ کار میں جب نئے ویب سائٹ والےفری لانسرکو مقررہ رقم کے عوض بڑی ویب سائٹ پر آرٹیکل پوسٹ کرنے کےلیے دے دیتے ہیں تو ان کے درمیان اجارہ کا معاملہ طےپاتا ہے چنانچہ آگے پھر فری لانسر اگر اس سے کم رقم کے عوض اس کو پوسٹ کروائے تو اس طرح نفع کمانا اس کےلیے جائز ہے۔
اسی طرح ویب سائٹ کے ذریعے جوے، شراب، فلمز، میوزک فوٹوں گرافی کےجو بیک لنکس لے کر پیسے کمائے جاتے ہیں یہ جائز نہیں ،نیز انشورنس کمپنیوں کے معاملات جائز نہ ہونے کی وجہ سےان کےلیے وکالت پر کام کرنا بھی جائز نہیں، البتہ جو ویب سائٹ کپڑوں اور فیشن وغیرہ کے ہوں توان کے ساتھ معاملات کی گنجائش ہے، تاہم غیر شرعی لباس بیچنا اور اس سے کمائی کرنا کراہت سے خالی نہیں۔
لو قال: احمل هذا المتاع إلى بيتي ولك درهم كان هذا. ( المبسوط للسرخسي، باب الخلع، ج: 6، ص: 180)
وشرطها: كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة. (الدر المختار، كتاب الإجارة، ج:9، ص: 7)
أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما وإلا فتنزيها.... وبيع المكعب المفضض للرجل إن ليلبسه يكره، لأنه إعانة على لبس الحرام وإن كان إسكافا أمره إنسان أن يتخذ له خفا على زي المجوس أو الفسقة أو خياطا أمره أن يتخذ له ثوبا على زي الفساق يكره له أن يفعل لأنه سبب التشبه بالمجوس والفسقة۔ ( ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الحضروالإباحة، فصل في البيع، ج:9،ص: 562)