بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طلاق دیتے وقت ان شاءاللہ کہنا


سوال

 زید نے اپنی اہلیہ کے روز روز جھگڑوں سے تنگ آ کر اپنی ساس کو فون کر کے کہا کہ میں اسے یعنی اپنی اہلیہ کو سبق سکھانے کے لئے ان شاءاللہ طلاق دے رہا ہوں، جب عقل ٹھکانے آ جائے تو بھیج دینا۔ یا پھر یہ جملہ کہا کہ ان شاءاللہ میں نے اسے طلاق دے دی۔ آیا ان جملوں کے ادا کرنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اور اگر واقع ہوتی ہے تو کتنی؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق دیتے وقت اگر کوئی شخص متصلاً ان شاء اللہ کہہ دے تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان شاء اللہ کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر اللہ چاہے تو طلاق ہے، اور اللہ کی مشیت کسی کو معلوم نہیں، اس لیے  متصلا ً ان شاء اللہ کہنے کی صورت میں  طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لیکن اگر طلاق کے جملے اوران شاء اللہ کے درمیان کچھ دیر  تک توقف کیا تو اس صور ت میں طلاق واقع ہوجائے گی۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر  مذکورہ شخص نے  طلاق  کےساتھ ان شاء اللہ متصلاً  کہاہو، تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح بدستور قائم ہے۔

 

وإذا قال الرجل لامرأته أنت طالق إن شاء الله تعالى متصلا لم يقع الطلاق " لقوله عليه الصلاة والسلام "من حلف بطلاق أو عتاق وقال إن شاء الله تعالى متصلا به فلا حنث عليه (الهداية، کتاب الطلاق، باب الأيمان في الطلاق، فصل في الاستثناء،ج:3، ص:204)

(قوله ولا في أنت طالق إن شاء الله متصلا، وإن ماتت قبل قوله إن شاء الله) أي لا يقع الطلاق لحديث رواه الترمذي،وحسنه مرفوعا «من حلف على يمين، وقال إن شاء الله لم يحنث.(البحر الرائق، کتاب الطلاق، باب التعليق،ج:4،ص:60)


فتویٰ نمبر : 6921/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور