بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کافرہ بادشاہی وہ، الفاظ کہنے کا حکم


سوال

حضرت سلیمان علیہ السلام کی بادشاہی کا ذکر ہورہا تھا ،ایک بندے نے کہا کہ اس بادشاہی میں پانی کے اوپر شیشے کا پل بھی بنا تھا تو میں نے پشتو میں از راہ مبالغہ کہا"کافرہ بادشاہی وہ"ایسے موقع میں ان الفاظ کے استعمال کا کیا حکم ہے کیا یہ الفاظ کفریہ  ہیں؟

جواب

واضح رہے  کہ وہ  کلمات جن میں کفر اور عدم کفر دونوں کا احتمال ہو تو  حتی الامکان ان کلمات کو عدم کفر پر محمول کیا  جائے گا چنانچہ وہ کلمات  جو معنی اور مفہوم کے لحاظ سے   بظاہربے ادبی کے معلوم ہورہے ہو لیکن  عرف میں ان سے کوئی بے ادبی مراد نہ لیتا ہوتو ان الفاظ  کےکہنے سے کوئی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔

صورت مسئولہ   کے مطابق   حضرت سلیمان علیہ السلام کی بادشاہی کے تذکرہ کے وقت یہ الفاظ کہناکہ "کافرہ بادشاہی وہ" تو ہین پر مبنی نہیں کیونکہ یہ الفاظ پشتو زبان میں مبالغہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اس  لیے ان الفاظ سے کفر لازم نہیں  ہوتا تاہم انبیا ء اور دیگر مقدس شخصیات کی شان میں احتیاط سے بولنا  چاہیئے تاکہ کسی شک و شبہ میں مبتلا ہونا نہ پڑے ۔

 

لا ‌يفتى ‌بتكفير ‌مسلم مهما أمكن حمل كلامه على محمل حسن.(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر،كتاب السير،باب المرتد،ج:1،ص:688)                                  


فتویٰ نمبر : 5808/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور