بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ پڑھنے کا حکم


سوال

میرا بھائی اٹلی میں مسافر ہے اس کا کام اس طرح ہے کہ اس کی ڈیوٹی ایسے وقت میں شروع ہوتی ہے کہ اس کی عصر کی نماز قضاء ہو نے کا خطرہ  ہوتا ہے تو وہ ظہر  اور عصر کو ایک ساتھ پڑھتا ہے کیا اس کی نماز درست ہو گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ہر نماز کے لیے اپنا وقت مقرر  ہے  لہذا ان کو اپنے وقت میں پڑھنا فرض ہے۔ کسی نماز کو اپنے وقت سے پہلے ادا کرنے یا کسی عذر کے بغیر  اپنے وقت کے بعد پڑھنے  کی گنجائش نہیں۔

صورت مسئولہ کہ مطابق مذکورہ شخص کے لیے کسی کام میں مشغولیت کی وجہ سے نماز قضاء ہونے کے خطرے سے عصر کی نمازکو  ظہر کے وقت میں پڑھنا جائز نہیں ۔البتہ  عصر کی نمازکو عصر کے بالکل ابتدائی وقت میں ادا کر سکتا ہے لیکن اگر قضاء  ہو جائے تو بعد میں قضاء پڑھے۔

 

عن ابن عباس عن النبى ﷺ  من جمع بين الصلاتين من غير عذر فقد اَتى بابا من أبواب الكبائر۔(سنن الترمذى،باب ما جاء في الجمع بين الصلاتين في الحضر، رقم الحديث:188)

( ولا جمع بين فرضين فى وقت بعذر) سفر ومطر وما رواه  ( محمول إلخ )أي ما رواه مما يدل على التأخير محمول على الجمع فعلاً لا وقتاً : أي فعل الأولى في آخر وقتها والثانية في أول وقتها ...(ردالمحتار مع الدر المختار  ، كتاب الصلاة ، باب الآذان ،ج:1، ص:55 )


فتویٰ نمبر : 9952/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور