بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

غصے کی حالت میں موت کی تمنا کرنا


سوال

اللہ سے غصے کے انداز میں موت مانگنا اور موت نہ آنے کی صورت میں غصے میں کہنا کہ اگر اللہ موت نہیں دیتا تو میں خود خودکشی کرتا  ہوں اور اس کا یہ بھی کہنا کہ ایک بندہ ساری عمر نیکی کرے اور آخر میں ایک خودکشی کی وجہ سے جہنم میں جائےیہ کیسا نظام ہے ۔کیا مفتی صاحب ان باتوں کی وجہ سے بندہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گا یا نہیں؟

جواب

بیماری ،تنگدستی ،مصائب ،آفات انسانی زندگی کے ساتھ لازم ہیں ان پر صبر کرنا اللہ پاک کی خوشنودی ،نیکیوں میں اضافہ اور آخرت میں درجات کی بلندی کا سبب بنتا ہے  ان پریشانیوں سے تنگ آکر غصے کی حالت میں موت کی تمنا کرنا  یا خودکشی کی کوشش کرنا  شرعاً جائز نہیں ،تاہم اگر کوئی خودکشی کرے تو  اس سے وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوگا۔البتہ کسی شخص کا یہ کہنا کہ "بندہ ساری عمرنیکی کرے اور آخر میں خودکشی کرکے جہنم میں جائے  یہ کیسا نظام ہے"اس سے مراد اگر اللہ پاک  سے صفت عدل کی نفی اور الله كی  طرف ظلم کی نسبت ہو تو ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو گا اس پر  تجدید ایمان اور تجدید نکاح لازم ہوگا ، لیکن اگر اس کا  مقصد صفت عدل کی نفی نہ ہو بلکہ اپنی لاعلمی کا  اظہار ہو  تو اس سے وہ  دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوگا۔

 

عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا ‌يتمنين ‌أحدكم ‌الموت ‌لضر ‌نزل ‌به، فإن كان لا بد متمنيا فليقل: اللهم أحينی ما كانت الحياة خيرا لي وتوفنی إذا كانت الوفاة خيرا لي (صحيح مسلم، باب كراهة الموت تمنی الموت لضر نزل به ، 2680)

(‌يكره ‌تمني ‌الموت) لغضب أو ضيق عيش (إلا لخوف الوقوع فی معصية) أی فيكره لخوف الدنيا لا الدين.(رد المحتار علی الدرالمختار، كتاب الحظر والاباحة،فصل في البيع، ج:9، ص:601)

قال أبو حفص - رحمه الله تعالى - ‌من ‌نسب ‌الله ‌تعالى ‌إلى ‌الجور ‌فقد ‌كفر.(الفتاوی الهندية، كتاب السير، مطلب فی موجبات الكفر انواع.)

اعلم أنه (لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن) ظاهره أنه لا يفتی به من حيث استحقاقه للقتل ولا من حيث الحكم ببينونةزوجته.ردالمحتار علی الدر المختار، كتاب الجهاد، باب المرتد، ج:6، ص:367)


فتویٰ نمبر : 5798/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور