بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
طلاق کو کسی چیز کے ساتھ معلق کرنے کا حکم
سوال
"اگر شوہر اپنی بیوی سے کہے کہ "میں نے آپ کے لئےایک روپے کی چیز بھی لی تو تم مجھ پر حرام ہو" تو کیا طلاق واقع ہوگی؟اور اگرشوہر کو اس میں شک ہو کہ میں نے"میں نے تجھے طلاق دی ہے " الفاظ کہے ہیں یا نہیں ، تو کیا اس سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں طلاق کو کسی چیز کےساتھ مشروط کیا جائے تو جب تک شرط واقع نہیں ہوتی طلاق واقع نہ ہوگی،نیز "تم مجھ پر حرام ہو" کے الفاظ سے ایک طلاق بائن واقع ہوتی ہے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق شوہربیوی کےلئے کوئی بھی چیز خریدےگا تو ایک طلاق بائن واقع ہو جائےگی۔اور دوسری صورت میں اگر واقعتا شک ہوتو محض شکسے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
وإذا أضافه إلى الشرط،وقع عقيب الشرط إتفاقا.(الفتاوى الهنديه،كتاب الْطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط،الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن،وإذا وغيرها،ص:٤٨٨،ج:١)
(قَوْلُهُ فَيَقَعُ بِلَا نِيَّةٍ لِلْعُرْفِ) أَيْ فَيَكُونُ صَرِيحًا لَا كِنَايَةً، بِدَلِيلِ عَدَمِ اشْتِرَاطِ النِّيَّةِ وَإِنْ كَانَ الْوَاقِعُ فِي لَفْظِ الْحَرَامِ الْبَائِنَ لِأَنَّ الصَّرِيحَ قَدْ يَقَعُ بِهِ الْبَائِنُ كَمَا مَرَّ، لَكِنْ فِي وُقُوعِ الْبَائِنِ بِهِ بَحْثٌ سَنَذْكُرُهُ فِي بَابِ الْكِنَايَاتِ، وَإِنَّمَا كَانَ مَا ذَكَرَهُ صَرِيحًا لِأَنَّهُ صَارَ فَاشِيًا فِي الْعُرْفِ فِي اسْتِعْمَالِهِ فِي الطَّلَاقِ لَا يَعْرِفُونَ مِنْ صِيَغِ الطَّلَاقِ غَيْرَهُ وَلَا يَحْلِفُ بِهِ إلَّا الرِّجَالُ، وَقَدْ مَرَّ أَنَّ الصَّرِيحَ مَا غَلَبَ فِي الْعُرْفِ اسْتِعْمَالُهُ فِي الطَّلَاقِ بِحَيْثُ لَا يُسْتَعْمَلُ عُرْفًا إلَّا فِيهِ مِنْ أَيِّ لُغَةٍ كَانَتْ، وَهَذَا فِي عُرْفِ زَمَانِنَا كَذَلِكَ فَوَجَبَ اعْتِبَارُهُ صَرِيحًا كَمَا أَفْتَى الْمُتَأَخِّرُونَ فِي أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ بِأَنَّهُ طَلَاقٌ بَائِنٌ لِلْعُرْفِ بِلَا نِيَّةٍ (رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطلاق،باب الصريح،ج:4،ص:464)
ومنها: شك هل طلق أم لا؟ لم یقع. شك أنه طلق واحدةً أو أکثر؟ بنی علی الأقل، کما ذکر الإسبیجابي.(الأشباه والنظائرلابن نجيم ،قاعدة: من شك هل فعل أم لا؟ص: 52،ط:العلمية)