بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ماربل گرینائٹ اور دیگر معدنیات کے کاروبار کی شرعی حیثیت


سوال

لیز کیا چیز ہوتا ہے؟معدنیات (ماربل، گرینائٹ، کواڑز،آئرن،سلفر،کرومائٹ ،بلور،نفرائٹ،تانبہ وغیرہ)کے لئے حکومت اور محکمہ معدنیات کی طرف سے اصول اور قانون یہ ہوتا ہے،کہ جو بھی اس جگہ سے معدنیات نکالنا چاہتے ہیں،تو محکمہ معدنیات سے اس جگہ کا لیز کروایا جاتا ہے اور اس لیز ہولڈر کے علاوہ کسی کو بھی اس لیز سے معدنیات ماربل یا گرینائٹ وغیرہ نکالنےکی بالکل اجازت نہیں ،یعنی وہ لیز حکومت کا اذن اور اجازت شمار ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر زمین /پہاڑ ماربل نکالنے والے کی ملکیت ہے، تو اس کی معدنیات ماربل وغیرہ بھی شرعاً اس کی ملکیت ہے ، لہٰذا فی نفسہ وہاں سے ماربل نکال کر فروخت کرنا جائز ہے، لیکن حکومت نے چونکہ یہ قانون بنایا ہے کہ ماربل / گرینائٹ نکالنے کیلئے پہلے اس جگہ کی حکومت ( محکمہ معدنیات) سے لیز  کرواناہوتاہے، اور اس میں حکومت فی ٹن ماربل/گرینائٹ پر مخصوص ٹیکس بھی وصول کرتی ہے، اور وہ ٹیکس بظاہر اتنا زیادہ نہیں کہ اُسے ظالمانہ ٹیکس کہا جائے ، بلکہ  سیکورٹی فراہم کرنے کی وجہ سے اتنا ٹیکس لینا بر حق ہے۔ کیوں کہ کسی بھی ملک/ریاست میں رہنے والا شخص اس ریاست میں رائج قوانین پر عمل درآمد کا (خاموش) معاہدہ کرتاہے، اور جائز امور میں معاہدہ کرنے کے بعد اسے پورا کرنا چاہیے، اس طرح کے جائز امورسے متعلق قانون کی خلاف ورزی سےگویا معاہدہ کی خلاف ورزی ہے، اور معاہدے کی خلاف ورزی سے شریعت نے منع کیا ہے، نیز قانون شکنی کی صورت میں مال اور عزت کا خطرہ رہتا ہے، اور پکڑے جانے کی صورت میں مالی نقصان(یعنی آٹھ لاکھ روپے جرمانہ) کے ساتھ ساتھ (پانچ سال کی قید)سزا ملنے کا بھی ہوتا ہے،تو اتنی لمبی چوڑی بحث کی تحت  ماربل اور گرینائٹ اور دیگر جتنے بھی معدنیات ہیں، تو ان کے کارو بار کی  شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

واضح رہےکہ معدنیات زمین کے اجزاءمیں شمارہوتےہیں اسلئے  معدنیات زمین کے تابع ہیں،البتہ اس کی ملکیت میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے چنانچہ احناف کے نزدیک جس جگہ سے یہ چیزیں نکالی جائیں اگر اس کا مالک معلوم و متعین ہے تو ان معدنیات کا مالک وہی سمجھا جائے گا۔ چاہے نکالنے والا وہ خود ہو یا کوئی اور شخص۔ چنانچہ حکومت کی ملکیت میں موجودزمینوں سے نکلنے والے معدنیات کامالک حکومت ، شخصی جگہ سے نکلنے والے معدنیات کامالک وہ شخص اورقومی ملکیت سے نکلنے والے معدنیات کی مالک قوم سمجھی جائے گی اور اگر غیر مملوکہ زمین سےمعدنیات نکلیں ہو تو نکالنے والااس کا مالک سمجھا جائے گا۔اس کے برعکس موالک کے مشہورقول کے مطابق معدنیات جس حالت میں بھی ہوں ،غیرمملوک زمین میں ہوں ، یاسرکاری زمین میں یاکسی شخص یاقوم کی مملوکہ زمین میں ، اِن سب کامالک حکومت ہوگا۔ حکومت عارضی انتفاع کے لیے کسی کوبھی بطورِجاگیردے سکتی ہے البتہ کسی کواس کامستقل مالک نہیں بناسکتی اورجس کودیاجائے وہ حاصل شدہ معدنیات کے منافع کا1/40حصہ بطورِزکوٰۃ ادا کرے گا۔

معدنیات کے بارے میں پاکستان کاقانون بھی یہ ہے کہ تمام کان اورمعدنیات ہمیشہ حکومت کی ملکیت شمارہوں گی۔ یہ قانون فقہ مالکی کے ساتھ  مطابقت رکھتاہے کیونکہ اُس میں بھی تمام معدنیات کامالک حکومت ہے ،نیز فقہاے کرام کے ہاں جب کسی مجتہدفیہ مسئلہ میں حاکم کافیصلہ کسی ایک رائے پرہوجائے توفیصلہ کی وجہ سے وہ قوی اورواجب العمل ہوجاتاہے۔ لہٰذاپاکستان کے اس قانون کے مطابق شرعاً بھی معدنیات کی ملکیت حکومت کے پاس ہوگی۔

 صورت مسؤلہ میں حکومت متعلقہ شخص کے ساتھ جومعاہدہ کرتی ہے کہ وہ سالانہ ایک مخصوص رقم لیزکی مدمیں دے گا، چونکہ یہ شخص حکومت کی ملکیت سے انتفاع حاصل کررہاہے اس لیے حکومت کے لیے اس کے عوض رقم وصول کرناجائزہے۔ اس طرح معدنیات نکلنے کے بعدحکومت فی ٹن کے حساب سے جو ٹیکس وصول کرتی ہےتوشرعی حیثیت سےحکومت ضروریات کے تحت جائزحدتک ٹیکس وصول کرسکتی ہے لہٰذا معدنیات نکالنے والے سے فی ٹن کے حساب سے مناسب مقدارمیں ٹیکس لینابھی حکومت کے لیے جائزہے ۔

 

"أنّ المعدن من توابع الأرض؛ لأنه من أجزائها."(ردّالمحتار،كتاب الزّكاة،باب الرّكاز،ج:3،ص:259)

"فاعلم أن المستخرج من المعدن ثلثۃ أنواع جامد یذوب وینطبع کالنقدین والحدیدوجامد لا ینطبع کالجصّ والنورۃ والکحل والزرنیخ وسائر الأحجار کالیاقوت والملح وما لیس بجامد کالماء والقیر والنفط ولا یجب الخمس إلا فی النوع الأول.( فتح القدیر على الهداية،كتاب الزكاة، ‌‌باب في المعادن والركاز،ج:2،ص:233)

وأما ما لا یذوب بالإذابۃ فلا خمس فیہ ویکون کلّہ للواجد ؛ لأن الزرنیخ  والجص  والنورۃ ونحوها من أجزاء الأرض فکان کالتراب  والیاقوت والفصوص من جنس الأحجار إلا أنها أحجار مضیئۃ ولا خمس فی الحجر. وأما المایٔع کالقیر  والنفط فلا شیء فیہ ویکون للواجد؛لأنہ ماء وأنہ مما لا یقصد بالاستیلاء فلم یکن فی ید الکفار حتی یکون من الغنایٔم فلا یجب فیہ الخمس۔۔۔۔ہذا إذا وجد المعدن فی دار الإسلام فی أرض غیر مملوکۃ فأما إذا وجدہ فی أرض مملوکۃ  أو دار  أو منزل  أو حانوت فلا خلاف فی أن الأربعۃ الأخماس لصاحب الملک وحدہ  أو غیرہ؛ لأن المعدن من توابع الأرض ؛ لأنہ من أجزائها خلق فیها ومنها.( بدائع الصنائع،كتاب الزكاة،فصل حكم المستخرج من الأرض،ج:2،ص:67)

"وحکمہ: للإمام ولو بأرض معین إلا مملوکۃ لمصالح فلہ من المدونۃ قال مالک : وللإمام إقطاع المعادن لمن رأی ویأخذ منها الزکاۃ  وکذلک ما ظهر من المعدن فی أرض العرب وأرض البربر فالإمام یلیها ویقطعها لمن رأی ویأخذ زکاتها  وکذلک ما ظهر منها بأرض العنوۃ فهو للإمام. وأما ما ظهر منها فی أرض الصلح فهو لأهل الصلح لهم أن یمنعوا الناس أن یعملوا فیها. ابن رشد : مذهب المدونۃ أن المعادن لیست تبعا للأرض التی هي فیها  مملوکۃ کانت أو غیر مملوکۃ  إلا أن تکون فی أرض قوم صالحوا علیها فإن أسلموا رجع أمرها إلی الإمام. ووجهہ أن المعادن التی فی جوف الأرض أقدم من ملک المالکین لها فلم یحصل ذلک ملکا لهم بملک الأرض فصار ما فیها بمنزلۃ ما لم یوجف علیہ بخیل ولا رکاب.(التاج والإكليل لمختصر خليل،محمد بن يوسف بن أبي القاسم بن يوسف العبدري الغرناطي، أبو عبد الله المواق المالكي،كتاب الزكاة، زكاة المعادن وخمس الركاز،دار الكتب العلمية،ج:3،ص:207)

"والمعتمد أنها للإمام لأن المعادن قد یجدها شرار الناس فلو لم یکن حکمہ للإمام لأدی إلی الفتن والهرج."(حاشية الدسوقي على الشرح الكبير،محمد بن أحمد بن عرفة الدسوقي المالكي ،كتاب الزكاة، زكاة المعدن،دار الفكر،ج:1 ص:487)

"ولهذا إذا حکم الحاکم في فصل مجتهد فیہ ینفذ"(تبیین الحقائق شرح كنز الدقائق،كتاب النكاح،ج:2،ص:116)

"التصرّف على الرعية منوط بالمصلحة"(شٓرح المجلة،سليم رستم باز،المقالةالثانية في القواعد الفقهية،مادة:58،ج:1،ص:42)       

49: All the mines and minerals shall and shall always be deemed to have been the property of government. ) The Land Revenue Act (West Pakistan Land Revenue Act (XVII of 1967)  section  49)


فتویٰ نمبر : 5801/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور