بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
بیوہ،دو بھائیوں اور ایک بہن میں تقسیم میراث
سوال
میں اپنے مرحوم بھائی عزیز رحمان ولد حاجی فیروز دین کے ترکہ کی تقسیم سے متعلق شرعی حیثیت معلوم کرناچاہتا ہوں، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں: فوت ہونے والے بھائی کے ورثاءمیں ایک بہن (صابرہ بی بی)، دو بھائی( سعید رحمان، ساجد رحمان) اور ایک بیوہ ہے، جس سے ہمارے بھائی کی کوئی اولاد نہیں ہے۔
جواب
ميــــــــــــــــــــ(20)ــــــــــــــــــــــت
بیوہ بھائی بھائی بہن
5 6 6 3
بشرط صدق وثبوت اگر میت کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ کوئی اور قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو تو بعد ازادائےحقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ بیس (20) برابرحصوں میں تقسیم ہوکر بیوہ کوچوتھائی حصہ یعنی)5/20) حصے،دو بھائی اور بہن عصبہ بن کر ہر ایک بھائی کو (6/20) حصے اور بہن کو (3/20) حصے ملیں گے۔
قال الله تعالى: ﴿وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ﴾. (النساء: 12)
وقال تعالى: ﴿وَإِنْ كانُوا إِخْوَةً رِجالًا وَنِساءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾. (النساء:176)