بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بائنانس ایپ کے زریعے ڈالر خریدنا


سوال

اگر کوئی شخص بائنانس  کے ذریعے ڈالر خریدتا ہو جس کا  طریقہ کار یہ ہے کہ میرے پاس پاکستانی روپے ہیں تو میں ان کے ذریعے ڈالر خرید تا ہوں وہ  پہلے مجھ سے پیسے لیتے ہیں اس کے بعد ڈالر بھیجتے ہیں لیکن دھوکہ کرنا ناممکن ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس پر آن لائن قبضہ ہوتا ہے بینک یا بائنانس کے ذریعے سے تو کیا بیع صرف میں اس طرح قبضہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

بائنانس کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ کا ایکسچینج ہےجس کےذریعے مختلف ڈیجیٹل کرنسیوں کی خرید و فروخت کی جاتی ہے،   بائنانس ایپ چونکہ ڈیجیٹل کرنسی کی خرید و فروخت کی سروس فراہم کرتا ہے،اور  ڈیجیٹل کرنسی کی  حقیقت  ہماری معلومات کے مطابق   ابھی تک پوری طرح واضح نہیں ہوئی اور فی الحال یہ ارتقائی مراحل سے گزر رہی ہے جبکہ قانونی سطح پر بھی ابھی تک پاکستان سمیت دنیا کے اکثر ممالک میں اسے لیگل کرنسی کی حیثیت حاصل نہیں ۔اسی طرح اہل علم کی آراء بھی اس بارے میں مختلف ہیں ۔لہذا جامعہ  عثمانیہ کے دار الافتاءنے اس بارے میں غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ فی الوقت اس بارے میں رائے قائم نہ کی جائے ،البتہ مناسب یہ ہے کہ حقیقت واضح ہونے تک اس میں سرمایہ کاری سے احتراز ہی کیا جائے کیونکہ مومنین کی یہ خوبی ہے کہ وہ شبہات سے بھی  اپنے آپ کو بچاتے ہیں بالخصوص جب کہ وہ زندگی کی کوئی لازمی ضرورت بھی نہ ہو۔

 

عن عامر قال: سمعت النعمان بن بشير يقول:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: (‌الحلال ‌بين، والحرام بين، وبينهما مشبهات لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى المشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات: كراع يرعى حول الحمى يوشك أن يواقعه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا وإن حمى الله في أرضه محارمه،ألا وإن في الجسد مضغة: إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب)[صحيح البخاري ،باب فضل من استبرا لدينه،ج:1 ص:13]


فتویٰ نمبر : 3505/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور