بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

اے اللہ اتنا تو کردے کہ مجھے موت دے دے،کے الفاظ غصےمیں کہنا


سوال

اگر کوئی شخص غصے میں کہے کہ"اے اللہ اتنا تو کردے کہ مجھے موت دےدے" تو کیا وہ اس سے اسلام سے خارج ہوجاتاہے،اور تجدید نکاح کرنا پڑےگا یا نہیں؟

جواب

زندگی میں مختلف قسم کے حالات آتے ہیں کبھی خوشی کبھی غم ،انسان کو ان حالات میں صبر و استقلال کا مظاہرہ کرنا چاہیےلیکن اگر کوئی حالات سے تنگ ہوکر غصے میں آکر ایسے الفاظ کہے جس سے اللہ کی رحمت سے مایوسی معلوم ہوتی ہو تو اس  قسم کے الفاظ سے بندہ گناہ گار ہوتا ہے تاہم اسلام سے خارج نہیں ہوتا،صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی غصے میں کہے کہ اے اللہ اتنا تو کردے کہ  مجھے موت دے دے تو اس سے وہ  اسلام سے خارج نہیں ہوتا ،اور نہ تجدید نکاح کرے گا۔البتہ اس طرح مایوسی  کی سوچ اور مایوسی کی باتیں کسی مسلمان کا شیوہ نہیں،اس سے احتراز کرنا چاہیے۔

 

قال الله تعالی:"قُلْ يَا عِبَادِىَ الَّـذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓى اَنْفُسِهِـمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْـمَةِ اللّـٰهِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُـوْبَ جَـمِيْعًا  ۚ اِنَّهُ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِـيْمُ (53)سورہ زمر"

و قال في مقام آخر:"أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» ‏‏‏‏ [التوبة:104]"

‌و في الحديث :وَلَا ‌يَتَمَنَّى  ‌أَحَدُكُمُ ‌الْمَوْتَ، ‌إِمَّا ‌مُحْسِناً  فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ خَيْراً، وَإِمَّا مُسِيئاً فَلَعَلَّهُ أَنْ يُسْتَعْتَبَ". (صحيح البخاري،حديث نمبر ٥٢٩٧)  

و في حديث آخر: (یکرہ تمنی الموت)لغضب أو ضیق عیش(إلا لخوف الوقوع فی معصیة)أی فیکرہ لخوف الدنیا لا الدین.(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الحظر و الإباحه ج:9،ص:601)


فتویٰ نمبر : 5799/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور