بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
غیر مسلموں کےمذہبی تہوار وں میں شرکت اور مبارک باد دینا
سوال
اگراسسٹنٹ کمشنر "کرسمس"کے موقع پر تقریب منعقد کروائےاور پوسٹر چھپوائے،جس پر یہ لکھا ہو'میری کرسمس'اور 'مسیحی برادری کو کرسمس دل کی اتاہ گہرائیوں سے مبارک ہو'۔اور زبان سے یہ الفاظ بولے کہ'مسیحی برادری کو کرسمس دل کی اتاہ گہرائیوں سے مبارک ہو'۔تو کیا اس سے وہ کافر ہوجائے گا؟نیز "ایسٹر" کے موقع پر یہ الفاظ لکھے اور بولےکہ 'مسیحی برادری کو ایسٹر دل کی اتاہ گہرائیوں سے مبارک ہو'۔ مذکورہ افسر ان تقریب میں کیک کاٹیں اور کھائیں،اسی طرح ان کی تقریب میں جہاں عیسائی شرکیہ جملہ بولیں کہ "اللہ تعالی نے بیٹا پیدا کیا ہے"شامل ہو جائے ،تو اس پر شرعاً حکم کیا لگے گا؟
جواب
غیر مسلموں کے مذہبی تہوارعموماً شرکیہ عقائد و نظریات اور عبادات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ایک مسلمان ہونے کے ناطے ان کےمشرکانہ عقائد سے براءت اور لاتعلقی کا اظہار ضروری ہے۔ چونکہ ان مواقع پر ان کو مبارک باد دینے اور ان کے ساتھ شریک ہونے سے ان کے باطل مذہب کی تائید ہوتی ہے،اس لیے اس سے احتراز لازم ہے۔نیز اس سے اگر ان کے دین کی تعظیم مقصود ہو ،تو کفر کا اندیشہ ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق کسی مسلمان کا "کرسمس"اور "ایسٹر" کے موقع پر تقریب منعقد کروانا ، پوسٹر چھپوانا اور مسیحی برادری کو مبارک باد دینا ازروئے شریعت جائز نہیں ،اگر اس سے مقصود ان کے دین کی تعظیم ہو ،تو کفر کا قوی اندیشہ ہے۔لہذا مسلمانوں پر یہ لازم ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ یکجہتی یا اظہار محبت کی غرض سے ان کے تہواروں میں شرکت کرنے اور ان کو مبارک باد دینے سے مکمل اجتناب کریں ۔
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «إذا سلم عليكم أهل الكتاب فقولوا: وعليكم.»(الصحيح للبخاري، كتاب الاستئذان، باب كيف يرد على أهل الذمة السلام،ج:7،ص:58،رقم الحديث:6258)
اجتمع المجوس يوم النيروز فقال مسلم:"خوب رسمى نهاده اند، أو قال: نيك آئيں نهاده اند" يخاف عليه الكفر.(الفتاوى التاتارخانية،كتاب احكام المرتدين، الفصل: الشركة في أعياد الكفار، ج:7، ص: 348)