بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

لفظ" طلاق "کے استعمال او ر اخبار سے طلاق کا حکم


سوال

میری والدہ اور بیوی موبائل پر باتیں کررہی تھیں ، دوران گفتگو لڑائی ہوئی اور ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگی۔ میں نے اپنی والدہ سے موبائل لے کر اپنی بیوی سے کہا:"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "۔اس نے فون بند کردی۔پھر اس کی بہن نے فون کیا ،میں نے اپنی والدہ سے فون لے کر اس کی بہن سے کہا:میں نے طلاق دے دی ہے ،دے دی ہے۔اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں ؟ میں نے اپنی بیوی کی بہن سے یہ الفاظ کہ "میں نے طلاق دے دی ہے، دے دی ہے "بغیر کسی نیت کے ڈرانے کی غرض سے کہے تھے۔

جواب

اگر شوہر اپنی بیوی کے لیے طلاق کے الفاظ استعمال کرے ،تو اسے طلاق واقع ہوجاتی ہے اور خاوند کی نیت کا اعتبار نہیں ہوتا۔نیز کسی کو طلاق  کی خبر دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل نے  واقعی اپنی  بیوی سے  فون پر یہ الفاظ کہےکہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " ،تو اس سے ایک طلاق رجعى واقع ہوگئی ہے۔البتہ اس کے بعد  بیوی کی بہن سے یہ الفاظ کہ "میں نے طلاق دے دی ہے ،دے دی ہے"کہنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی  کیونکہ ان  الفاظ میں محض طلاق کی خبر دی گئی ہے ۔لہذا خاوندکے لیے   عدت کے  دوران   بیوی سے رجوع جائز ہے۔لیکن اگر رجوع کیے بغیر عدت گزر گئی تو تجدید نکاح ضروری ہے۔

 

ولو قال لامرأته: أنت طالق فقال له رجل: ما قلت؟ فقال: طلقتها أو قال قلت: هي طالق فهي واحدة في القضاء؛ لأن كلامه ‌انصرف ‌إلى ‌الإخبار بقرينة الاستخبار.(بدائع الصنائع،كتاب الطلاق،فصل في النية في أحد نوعي الطلاق و هو الكناية،ج:3،ص:102)

إذا طلق الرجل  إمرأته تطليقة رجعية، أو تطليقتين، فله أن يراجعها في عدتها.(الهداية، كتاب الطلاق،باب الرجعة،ج:2،ص:405)


فتویٰ نمبر : 6900/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور