بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

قرآن کی منزلوں کی وضاحت


سوال

 قرآن مجید کا نسخہ مصحف عثمانی میں سات منزل ہے اور پھر اس میں بعض منزل ایک پارہ پر مشتمل ہے اور بعض منزل زیادہ پاروں پر مشتمل ہے۔تو میرا سوال یہ ہے کہ یہ سات منزل پر پورا قرآن کس دور میں اور کس نے تقسیم کیا ہے اور یہ منزل سات کیوں ہیں زیادہ کیوں نہیں ،اور بعض منزل زیادہ پاروں پر اور بعض کم پاروں پر کیوں مشتمل ہے سب منزل برابر کیوں نہیں ؟ دلائل کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین کرام رحمہم اللہ کا معمول تھا کہ وہ ہر ہفتے ایک قرآن کریم ختم کر لیتے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے روزانہ تلاوت کی ایک مقدار مقرر کی ہوئی تھی، جسے ’’حزب‘‘ یا ’’منزل‘‘ کہا جاتا ہے۔

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ منازل ِقرآن  نبی کریم ﷺ کے زمانہ سے ہی   اس طرح مقررہیں  ، چنانچہ مسند ِ احمد  میں روایت منقول ہے، حضرت اوس ؓ  فرماتے ہیں کہ میں اس وفد میں شامل تھا  جن کا تعلق بنو مالک کے قبیلہ ثقیف سے تھا ،جو مسلمان ہو کر  رسول اللہﷺکے پاس آئے تھے  ،ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایک جگہ ٹھہرایا ۔۔۔ ایک رات آپﷺ سابقہ معمول سے ذرا تاخیر سے تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول ﷺ،آپ آج تاخیر سے تشریف لائے فرمایا :میرا تلاوت قرآن کا "حزب" رہ گیا تھا میں نے پورا ہونے سے قبل نکلنا پسند نہ کیا ،حضرت اوس ؓکہتے ہیں کہ جب صبح ہوئی توہم نے نبی ﷺ کے صحابہؓ سے پوچھا کہ آپ  قرآن کی تلاوت کے لئے کیسے حصے کرتے ہو ؟انہوں نے فرمایا :کہ تین سورتیں (فاتحہ کے بعد بقرہ اور آل عمران اور نساء )اور پانچ سورتیں ( سورت مائدہ سے براءۃ کے آخر تک) اور سات (سورتیں یونس سے نحل تک) اور نو سورتیں( بنی اسرائیل سے فرقان تک) اور گیارہ سورتیں (شعراء سے یسین تک) اور تیرہ سورتیں (والصافات سے حجرات تک) اور آخری حزب مفصل،یعنی سورت ق سے آخر تک۔

 

حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن الطائفي، عن عثمان بن عبد الله بن أوس الثقفي، عن جده أوس بن حذيفة، قال: كنت في الوفد الذين أتوا  النبي صلى الله عليه وسلم أسلموا من ثقيف من بني مالك، أنزلنا في قبة له، فكان يختلف إلينا بين بيوته وبين المسجد، فإذا صلى العشاء الآخرة، انصرف إلينا ولا نبرح حتى يحدثنا، ويشتكي قريشا، ويشتكي أهل مكة، ثم يقول:" لا سواء، كنا بمكة مستذلين ومستضعفين، فلما خرجنا إلى المدينة كانت سجال الحرب علينا ولنا " فمكث عنا ليلة لم يأتنا حتى طال ذلك علينا بعد العشاء قال: قلنا: ما أمكثك عنا يا رسول الله؟ قال: " طرأ علي حزب من القرآن، فأردت أن لا أخرج حتى أقضيه " قال: فسألنا أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم حين أصبحنا، قال: قلنا: كيف تحزبون القرآن؟ قالوا: نحزبه ثلاث سور، وخمس سور، وسبع سور، وتسع سور، وإحدى عشرة سورة، وثلاث عشرة سورة، وحزب المفصل من قاف حتى يختم. (مسند إمام أحمد، مسند المدنيين، حديث أوس بن أبي أوس الثقفي وهو أوس بن حذيفة ،رقم الحديث: ١٦١٦٦ ،ج:٢٦ ،ص:٨٩)


فتویٰ نمبر : 5830/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور