بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

امانت پر ہونے والے منافع کا حکم


سوال

ہم 7 بھائی اور 2 بہنیں اپنے والد صاحب کے ساتھ ایک ہی مکان میں رہتے تھے اور یہ مکان والد صاحب کے نام پر تھا ۔ والد صاحب کلیئرنگ فارورڈنگ کا کاروبار کرتے تھے ۔ اور ان کے ساتھ ان کے 4 بیٹے بھی اس کاروبار میں شریک تھے ۔ کچھ عرصے بعد دونوں بہنوں کی شادی ہو گئی تھی ۔ اور وہ اپنے اپنے گھر یعنی اپنے سسرال جاچکی تھیں ۔ اور باقی سارے بھائی اپنے والدین کے ساتھ رہتے تھے ۔ کچھ عرصے بعد والد صاحب کے کاروباری حالات کچھ خراب ہونےشروع ہوگئے ۔ بہت کوشش کےبعد بھی حالات بہتر نہیں ہورہےتھے، بلکہ مزید خراب ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ کاروبار کو بہتر کرنے کیلئے ایک کلائنٹ کا لاکھوں روپے کا قرض والد صاحب کی کمپنی پر چڑھ گیا ۔ پھر اس کلائنٹ نے اپنی رقم کا تقاضا کرنا شروع کردیا، مگر کمپنی کو مسلسل خسارے کی وجہ سے اس کلائنٹ کی رقم کو اتارنا مشکل ہو رہا تھا۔ آخر کار کچھ عرصے کے بعد اس کلائنٹ نے کورٹ میں ہمارے خلاف کیس کردیا ۔ اور اس کے کچھ عرصے بعد کورٹ سے ہمیں ایک نوٹس ملا جس میں لکھا تھا کے آپ نے اس کلائنٹ کے پیسے دینے ہیں لہذا آپ فوراً اس کی رقم ادا کریں یا اس مکان کو جلد ازجلد خالی کریں ۔ تاکہ کورٹ اس مکان کو نیلام کر کہ قانون کے مطابق اس کلائنٹ کو رقم دے سکے جو اس نے کیس کیا تھا ۔ اس کےبعد ہماری پوری فیملی بہت پریشان ہوئی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں ،کہیں سے رقم کا بندوست بھی نہیں ہو پارہا تھا اور آخر کار کورٹ کے دوسرے نوٹس پر دل برداشتہ ہو کر ہم لوگوں نے وہ مکان خالی کر دیا اور ایک کرائے کہ مکان میں رہنے لگے ۔ اسی پریشانی میں کچھ عرصے بعد والدہ کا انتقال ہو گیا ۔ اور پھر مزید تقریباً 2 سال کے بعد والد صاحب کا بھی انتقال ہو گیا ۔ اسی پریشانی میں ہم اپنے حالات بہتر کرنے کی کوشش میں لگے رہیں اور ہم لوگوں نے پلٹ کر اپنے مکان کی کوئی خبر نہیں لی اور ہم لوگ یہی سمجھتے رہے کہ کورٹ نے ہمارا مکان فروخت کرکے اس کلائنٹ کو رقم دے دی ہوگی ۔ اب والد کہ انتقال کے تقریباً 8 سال بعد کچھ عرصہ پہلے ایک تقریب میں والد کے ایک بہت پرانے دوست سے ملاقات ہوئی ۔ ان کو ہمارے گھر کے سب حالات کا علم تھا اور پچھلے کئی سالوں سے ملک سے باہر تھے ۔تب انہوں نے بتایا کہ کورٹ نے تم لوگوں کا مکان فروخت کرکے اس کلائنٹ کو اس کی رقم دے دی تھی ۔ مگر اس کے بعد بھی اس میں کچھ رقم باقی بچی ہوئی ہے جو کہ کورٹ میں ہی پڑی ہوئی ہے ۔ اور تم لوگ اس کے وارث ہو ، تم لوگ اگر کورٹ جاؤگے تو وہ رقم تم لوگوں کو مل سکتی ہے ،پھر ہم نے ایک وکیل کے ذریعے اپنے گھر کا پتہ بتا کر اس کیس کی ساری تفصیل نکلوائی ۔ کچھ ہی دنوں میں اس وکیل نے ہمیں ساری تفصیل سے آگاہ کیا ۔ اور ہمیں بتایا کہ کورٹ نے ہمارا مکان فروخت کرکے اس کلائنٹ کو اس کی رقم دے دی تھی ۔ اور اس کے بعد اس میں 9 لاکھ روپے بچے تھے ۔ کیونکہ آپ کے والد اور آپ لوگوں کی طرف سے کورٹ سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا تھا ۔ تو کورٹ نے کچھ عرصے انتظار کہ بعد یہ رقم اسپیشل سیونگ سرٹیفیکیٹ کہ ذریعے بینک میں جمع کروا دی تھی ۔ اور اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ اس رقم پر منافع بڑھتے بڑھتے یہ رقم اب تقریباً 30 لاکھ ہو چکی ہے ۔ اور وکیل نے مزید بتایا کہ کچھ قانونی تقاضے اور ضروری کاغذات مکمل کر کہ آپ لوگ مل کر ایک درخواست دائر کرینگے تو منافع کی رقم کے ساتھ یہ پوری رقم آپ سب وارثوں میں شریعت کے مطابق تقسیم ہو کر مل جائے گی ۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ رقم جو کورٹ میں باقی بچی ہوئی ہے ۔ اس کا نہ ہمارے والد کو اور نہ ہم لوگوں کو اس بارے میں کوئی علم تھا ۔ اور کورٹ نے یہ رقم اسپیشل سیونگ سرٹیفیکیٹ کہ ذریعے بینک میں رکھ دی اس کا بھی کسی کو علم نہیں تھا ۔ اب یہ رقم اسپیشل سیونگ سرٹیفیکیٹ کہ ذریعے بینک میں نہ ہمارے والد صاحب نے نہ ہم وارثوں میں سے کسی نے رکھوائی تھی ۔ بلکہ کورٹ نے خود اپنی مرضی سے رکھی تھی ۔ اب کیا شریعت کے مطابق ہم تمام وارث منافع کے ساتھ کورٹ سے یہ رقم لے  سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ امانت رکھی ہوئی رقم  پر ہو نے والا منافع کا مستحق وہی  شخص ہوگا جس کی وہ رقم ہے چنانچہ اصل رقم کے ساتھ ساتھ منافع بھی مالک کو لوٹائی جائی گی ،اور اگر مالک فوت ہو جائے تو اس اصل رقم بمع منافع کے حقدار  اور مالک اس کے ورثا ہوں گے   جوان کے درمیان بقدر حصص شرعیہ تقسیم ہوگا ۔

صورت  مسؤلہ میں کورٹ کے پاس مرحوم کے گھر  کی قیمت  سےقرض خواہوں کو قرضہ دینے کے بعد جو 9لاکھ رقم   بچی ،اگر عدالت نے وہ رقم ما لک کی اجازت ور ضامندی کے بغیر سودی اکاؤنٹ میں رکھی ہو جس سے وہ رقم بڑھ کر 30لاکھ روپےہوگئی ،تو مالک یا اس کے ورثا کی طرف سے کوئی سودی عقد نہ ہونے کی وجہ  سے ان کے لیے یہ ساری رقم وصول کرنا جائز ہے۔

 

 قال اللہ تعالی:﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ. فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ﴾(البقرة:278۔279) 

"عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" بينما ثلاثة نفر يمشون، أخذهم المطر، فأووا إلى غار في جبل، فانحطت على فم غارهم صخرة من الجبل، فانطبقت عليهم، فقال بعضهم لبعض: انظروا أعمالا عملتموها صالحة لله، فادعوا الله بها لعله يفرجها عنكم، قال أحدهم: اللهم إنه كان لي والدان شيخان كبيران،  ولي صبية صغار كنت أرعى عليهم.۔۔۔ وقال الثالث: اللهم إني استاجرت أجيرا بفرق ارز، فلما قضى عمله، قال: أعطني حقي، فعرضت عليه، فرغب عنه، فلم أزل أزرعه حتى جمعت منه بقرا وراعيها، فجاءني، فقال: اتق الله، فقلت: اذهب إلى ذلك البقر ورعاتها فخذ، فقال: اتق الله ولا تستهزئ بي، فقلت: إني لا استهزئ بك فخذ، فأخذه، فإن كنت تعلم إني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج ما بقي، ففرج الله"۔(الصحیح للبخاری،کتاب المزارعَۃ، بابُ إِذَا زَرَعَ بِمَالِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ وَكَانَ فِي ذَلِكَ صَلاَحٌ لَهُم)

"عن عامر، قال: سمعت النعمان بن بشير، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " الحلال بين، والحرام بين، وبينهما مشبهات لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى المشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات: كراع يرعى حول الحمى، يوشك أن يواقعه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا إن حمى الله في أرضه محارمه، ألا وإن في الجسد مضغة: إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب ". (الصحيح للبخاري ،باب فضل من استبرا لدينه، رقم  الحديث: 52 ، ج:1، ص:7)

"الحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه (رد المحتار علی الدرالمختار،مَطْلَبٌ فِيمَنْ وَرِثَ مَالًا حَرَامًا،ج:5،ص:99)


فتویٰ نمبر : 3590/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور