بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

موبائل میں قرآن مجید رکھنے اور تلاوت کرنے کا حکم


سوال

قرآن مجید موبائل میں رکھنا اور اس میں تلاوت کرنا   اور اس کو دیکھنے پر ثواب ملنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

 شریعت مطہرہ کی روسے قرآن کریم کا ادب واحترام نص قرآنی سے ثابت ہےچنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے﴿لا يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ﴾  ترجمہ:اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں ۔حضرات مفسرین نے  روایات  کی روشنی میں اس آیت کی تفسیر کے تحت لکھا ہے کہ جس طرح قر آن کریم کو ہاتھ لگانے یا اٹھانے کے لیےباطنى طہارت كى رعاىت ضروری ہے اسی طرح  باوضو ہونابھی ضروری ہے، چنانچہ بغیر وضو قرآن کریم کے مصحف کو بغیر حائل کے ہاتھ لگانا جائز نہیں  ،تا ہم اگر بے وضو شخص کسی الگ کپڑے وغیرہ کے ساتھ قرآن کریم کو ہاتھ لگاتا ہے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے ۔

 صورت مسئولہ کے مطابق موبائل سکرین پر قرآ نی آیات (سافٹ فائل) کے جو نقوش نظر آتے ہیں   درحقیقت  اس میں باقاعدہ ایسے حروف موجود نہیں ہوتےجن کے لیے ثبات ودوام اور اپنا کوئی وجود ہو ، بلکہ در حقیقت یہ روشنی کی شعاعیں ہيں اس لیے موبائل میں موجود قرآن کریم مصحف قرآنی کے حکم میں نہیں ۔ لہذا  اگر آیات قرآنی سکرین پر نظر آرہی ہوں تو بلاوضو سکرین کو ہاتھ لگانا جائز  ہے تاہم  ادب کی رعایت رکھتے ہوئے   سکرین پرنظر آنے والی آیات کریمہ کو بھی  بغیر وضوکے  نہ چھونا بہت بہتر ہے ۔

 

قال الله تعالی :﴿لا يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ﴾ (الواقعة:79)

اختلف في ﴿الْمُطَهَّرُونَ﴾ من هم ؟ فقال أنس وسعيد وابن جبير : لا يمس ذلك الكتاب إلا المطهرون من الذنوب ۔ ۔ ۔ قال قتادة وغيره : ﴿لا يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ﴾ من الأحداث والأنجاس۔(الجامع لاحکام القرآن للقرطبی،ج:9، ص:225، دارالإحیاءالتراث العربی)

عن سليمان بن موسى،قال سمعت سالماً،يحدث عن أبيه،قال:قال النبي صلى الله عليه وسلم:لا يمسن القرآن إلاطَاهِرٌ.(سنن دار القطنی،باب فی نهي المحدث من مس القرآن،ج:1،ص:128)

ومنها:حرمة مس المصحف لا يجوز لهما و للجنب والمحدث مس المصحف إلا بغلاف متجاف عنه كالخريطة والجلد الغير المشرز، لا بما هو متصل به.(الفتاوى الهندية،كتاب الطهارة ج:1، ص:93 )

قال الْحَلْوَانِيُّ إنَّمَا نِلْت هذا الْعِلْمَ بِالتَّعْظِيمِ فَإِنِّي ما أَخَذْت الْكَاغَدَ إلَّا بِطَهَارَةٍ.(البحر الرائق،كتاب الطهارة،باب الحيض،ج:1،ص25)


فتویٰ نمبر : 5788/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور