بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کسی سے بات کرنے پر طلاق کو معلق کرنا


سوال

زید نے اپنی بیوی زینب سے کہا اگر تو نے عائشہ سے بات کی تو تجھے طلاق ہے ۔پھر زینب نے فاطمہ سے بات کی   لیکن  اس کی غرض عائشہ کو سنانے کی تھی تو کیا  اس سے طلاق واقع ہو گی؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے تو جب بھی شرط پائی جائے گی ، طلاق واقع ہو جائی گی ۔اور جب تک شرط واقع نہ ہو  تو طلاق واقع نہ ہوگی ۔ صورت مسئولہ  کے مطابق اگر زید نے اپنی بیوی زینب سے یہ کہا  ہو کہ " تم نے عائشہ سے بات کی تو تجھے طلاق ہے "اور ا س کے بعد زینب نے فاطمہ سے  بات کی ہو  لیکن  اس کی غرض یہ ہو کہ عائشہ سنے تو اس  سے کوئی طلا ق واقع نہیں ہو ئی۔

 

‌وإذا ‌أضافه ‌إلى ‌الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.( الفتاوى الهندية ، كتاب الطلاق، الفصل الثالث فى  تعليق الطلاق..،ج:1،ص:420)

قالوا فيمن حلف ‌لا ‌يكلم ‌فلانا ‌فكلم ‌غيره وهو يقصد أن يسمعه: لم يحنث كذا في خزانة المفتين.

حلف لا يكلم فلانا فكلم مع الجدار وقال: يا حائط كذا وكذا لا يحنث وإن كان غرضه إسماع فلان وبه يفتى كذا في الفتاوى الصغرى. ( الفتاوى الهندية، كتاب الأيمان ، الباب السادس فى اليمين على الكلام ،ج:2،ص:98)


فتویٰ نمبر : 6910/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور