بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

آفاقی کے لیے اشہر حج میں عمرہ کرنا


سوال

میں مکہ مکرمہ رمضان میں21ویں رات کو پہنچا میں نے اقامت کی نیت کی حالانکہ 15 دن قیام سےپہلےعیدالفطر کی نماز پڑھنے کے بعدمیں مدینہ منورہ اور پھر ریاض چلا گیااب دوبارہ مکہ مکرمہ جانا چاہتا ہوں تو کیا میں احرام باندھ کر عمرہ کرونگا یا کوئی شرعی حیلہ کے تحت مکہ مکرمہ داخل ہونگا جبکہ اس سال میرا حج کا ارادہ ہےکیونکہ میں نے سنا ہے کہ اہل مکہ مکرمہ کے لیے اشہر حج میں عمرہ کرنا مکروہ ہےتو کیا   اب ا قامت میں اہل مکہ مکرمہ کے حکم میں ہوں یا میرا وطن اقامت باطل ہو گیاجبکہ میرا کچھ سامان حل میں پڑا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ کسی جگہ اقامت کی نیت کرنے کے بعد  پندرہ دن رہنے سے پہلے کہیں اور سفر پر جانے  سے وطن اقامت باطل ہو  جاتا ہے ۔ نیز آفاقی یعنی   میقات سے باہر رہنے والےکے لیے احرام  کے بغیر   مکہ مکرمہ میں داخل ہونا جائز نہیں اگر احرام کے بغیر داخل ہوا تو اس پر دم لازم ہو گااور مکہ والے یا جو اہل مکہ کے حکم میں ہیں اگران کا  اسی  سال حج کا ارادہ ہو تو اشہر حج میں ان کے لیے عمرہ کرنا مکروہ ہے ۔

 صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل مکہ مکرمہ   میں رمضان کے اخیرعشرے میں اقامت کی نیت کرنے کے بعد پندرہ دن گزارنے سے پہلے   مدینہ منورہ گیا ہو تومکہ مکرمہ  اس کا وطن اقامت نہیں رہا۔نیزاب اگر دوبارہ مکہ مکرمہ  جانا چاہتا ہے تو حج یا عمرے کا  احرام باندھ کر مکہ میں داخل ہو گا  اور اس کے لیے اشہر حج میں مکہ مکرمہ جاتے ہوئے عمرہ کرنا جائز ہے ، کیونکہ اب یہ آفاقی ہے ۔

 

وطن الإقامة ينتقض بالوطن الأصلي...و ينتقض بالسفر أيضا لأن توطنه في هذا المقام ليس للقرار ولكن لحاجة فإذا سافر منه يستدل به على قضاء حاجته قصار معرضا عن التوطن به فصار ناقضاله دلالة .( بدائع الصنائع، كتاب الصلوة ، فصل فى بيان ما يصير به المسافر مقيما،ج:1،ص:498)

ولا ‌يجوز ‌للآفاقي ‌أن ‌يدخل مكة بغير إحرام نوى النسك أو لا ولو دخلها فعليه حجة أو عمرة كذا في محيط السرخسي في باب دخول مكة بغير إحرام۔(الفتاوى الهندية،كتاب المناسك ،الباب الثانى فى المواقيت، ج:1، ص:221)


فتویٰ نمبر : 9963/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور