بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مروجہ کلو کے اعتبار سے صدقہ فطر کی مقدار


سوال

محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم بعد از سلام  مسنون عرض ہے کہ ہمارے بعض اکابرین نے نصف صاع کی مقدار باعتبار وزن پونے دو کلو اور احتیاطاًدو کلو لکھا ہے اور جو پونے دو کلو سے تقریباً1750 گرام بنتی ہےاور بعض اکابرین نے پونے دو سیر اوراحتیاطاً دو سیر لکھا ہے اور ہمارے عرف میں سیر 1250گرام کا ہوتی ہے تو اسی حساب سے پونے دو سیر سےتقریباً2187.5  گرام بنتی ہے اور اس سے ہمارے علاقے میں گندم ایک من 6200 روپے کی تھی تو دو کلو کے اعتبار سے صدقہ فطر 248 روپے بنتی ہے اور دو سیر کے اعتبار سے 310 روپے بنتی ہے دونوں قیمتوں میں کافی تفاوت ہے اسی تفاوت کو ختم کرنے کے لیے علاقے کے بعض علماء نے فرمایا ہے کہ سیر سے یہ عرفی سیر مراد نہیں ہے جو 1250 گرام کا ہوتا ہے بلکہ اس سے وہ سیر مراد ہے جو 933.12  گرام کی ہوتی ہے کیا ان کی یہ بات صحیح ہے ؟اور دوسرا  یہ کہ بعض اکابرین نے سیر کے ساتھ یہ عبارت لکھی ہوتی(انگریزی سیر اسی تولہ کے اعتبار سے) اسی عبارت کا کیا مقصد ہے دلائل سے وضاحت فرما کر ممنون فرمائیں۔

جواب

واضح رہےکہ صدقہ فطر کی مقدار میں اصل پیمانہ "صاع "ہےاور حنفیہ کے ہاں صاع سے صاع عراقی مراد ہے  ،ایک صاع عراقی آٹھ رطل  کا ہوتا ہےاور  ایک رطل نوے مثقال کا اور نوے کو آٹھ میں ضرب دیں تو سات سو بیس  حاصل آتا ہے یعنی 720مثقال  ایک  صاع کا وزن بنتا ہے ۔ ایک مثقال ساڑھے چار ماشہ کا ہے تو پورا صاع تین ہزار دوسو چالیس ماشہ بنتا ہے اور بارہ ماشہ کا ایک تولہ ہوتا ہے تو تین ہزار دو سو چالیس کو بارہ  پر تقسیم کرنےسے دو سو ستر حاصل آتا ہے  یعنی ایک صاع دوسو ستر تولہ کا بن گیا اور نصف صاع ایک سو پنتیس تولہ کا ، جو اسّی تولہ کے انگریزی سیر کے حساب سے تین سیر چھ چھٹانگ کا پورا اور ڈیڑھ سیر تین چھٹانگ کا نصف صاع ہوا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق علماءکرام نے جو سیر  لکھا ہے اس سے مراد اسّی تولہ كا انگریزی سیر  ہے جو933.12گرام کے برابر ہے اور صدقہ فطر میں یہی سیر  مراد ہے اسی اعتبار سے نصف صاع پونے دو سیر1633 گرام بنتا ہے ۔

 

(وهو) أی ‌الصاع ‌المعتبر (ما يسع ألفا وأربعين درهما من ماش أو عدس) إنما قدر بهما(قوله وهو أی الصاع إلخ) اعلم أن الصاع أربعة أمداد والمد رطلان والرطل نصف من والمن بالدراهم مائتان وستون درهما وبالإستار أربعون والإستار بكسر الهمزة بالدراهم ستة ونصف بالمثاقيل قيل أربعة ونصف كذا فی شرح درر البحار فالمد والمن سواء كل منهما ربع صاع مائة وثلاثون درهما، وفی الزيلعی والفتح: اختلف فی الصاع فقال الطرفان ثمانية أرطال بالعراقی وقال الثانی خمسة أرطال وثلث، قيل لا خلاف؛ لأن الثانی قدره برطل المدينة؛ لأنه ثلاثون إستارا والعراقی عشرون وإذا قابلت ثمانية بالعراقی بخمسة وثلث بالمدينی وجدتهما سواء وهذا هو الأشبه؛ لأن محمدا لم يذكر خلاف أبی يوسف ولو كان لذكره؛ لأنه أعرف بمذهبه اه.(رد المحتار علی الدر المختار، كتاب الزكوة ،باب صدقة الفطر، ج:3، ص:320)

والصاع عند أبی حنيفة و محمد ثمانية أرطال بالعراقی...لأنه عليه السلام كان يتوضأبالمد رطلين، ويغتسل بالصاع ثمانيه أرطال.(الفقه الاسلامي وادلته، ج:3، ص:2044)


فتویٰ نمبر : 9968/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور