بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
ادھار نصابِ زکوۃ میں زکوۃ کا حکم
سوال
میرے پاس تین تولے سونا اور ستر ہزار روپے ہیں،سونا تو میرے ساتھ پڑا ہوا ہے ،لیکن پیسے میں نے کسی کو ادھار دیے ہیں،تو کیا مجھ پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں،اگر ہے تو کتنا ہے؟
جواب
شرعی نقطہ نظر سے اگر کسی کے پاس سونا اور چاندی یا نقدی ہو لیکن کوئی بھی اپنے نصاب تک نہ پہنچتا ہو،یعنی سونا ساڑھے سات تولے سے کم ہو،اور چاندی ساڑھے باون تولے سے کم ہو،یا نقدی ساڑھےباون تولے چاندی کی قیمت سے کم ہو،تو ایسی صورت میں ان کو باہم ملا کر دیکھا جائےگا کہ نصاب تک پہنچتے ہیں یا نہیں،اگر باہم ملنے سے چاندی کا نصاب پورا ہوتا ہو تو زکوۃ واجب ہوگی ورنہ نہیں۔نیز پیسے کسی کو ادھار دیے ہوں،تو یہ دین قوی میں آتاہے،فقہاء کے تصریحات کی مطابق اس قسم کے قرض پر سال گزر جائے تو اس پر زکوۃ واجب ہوتی ہے۔
صورت مسؤلہ میں تین تولے سونے کے علاوہ جو نقد رقم موجود ہے یعنی ستر ہزار روپے اگر یہ ساڑھےاکتیس تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو ں تو زکوۃ واجب ہوگی ورنہ نہیں۔
ويضم الذهب إلى الفضة،والفضةإلى الذهب،ويكمل إحدى النصابين بالأخرعند علماءنا.ثم عند أبوحنيفةيضمها إلى العروض بإعتبارالقيمة ،إن شاءقوّم العروض وضمها إلى الذهب و الفضة،و ضم قيمتهما إلى أعيان التجارة،أما عندهما يضم بإعتبار الأجزاء (الفتاوى تاتارخانية ،كتاب الزكوة،ج:٣،ص:١٧٤)
اعْلَمْ أَنَّ الدُّيُونَ عِنْدَ الْإِمَامِ ثَلَاثَةٌ: قَوِيٌّ، وَمُتَوَسِّطٌ، وَضَعِيفٌ؛ (فَتَجِبُ) زَكَاتُهَا إذَا تَمَّ نِصَابًا وَحَالَ الْحَوْلُ، لَكِنْ لَا فَوْرًا بَلْ (عِنْدَ قَبْضِ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا مِنْ الدَّيْنِ) الْقَوِيِّ كَقَرْضٍ (وَبَدَلِ مَالِ تِجَارَةٍ) فَكُلَّمَا قَبَضَ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا يَلْزَمُهُ دِرْهَمٌ (وَ) عِنْدَ قَبْضِ (مِائَتَيْنِ مِنْهُ لِغَيْرِهَا) أَيْ مِنْ بَدَلِ مَالٍ لِغَيْرِ تِجَارَةٍ وَهُوَ الْمُتَوَسِّطُ كَثَمَنِ سَائِمَةٍ وَعَبِيدِ خِدْمَةٍ وَنَحْوِهِمَا (ردالمحتار،باب زکوۃ المال،ج3،ص236)