بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
کفریہ وسوسہ آنا
سوال
مجھے بہت زیادہ کفریہ وسوسے اور خیالات آتے رہتے ہیں کچھ دنوں سے میرے ذہن میں ایسے خیالات آ رہے ہیں میں ان کو بیان نہیں کرسکتا، مین ان کو فوراً جھٹک کر درود شریف پڑھنے لگ جاتا ہوں اور مرزا قادیانی پر بے شمار لعنت بھیجتا ہوں ،مجھے ہر وقت بہت ڈر لگا رہتا ہے کہ مجھ سے کہیں کفر نہ سرزد ہو جائے۔ میں نے سوال یہ پوچھنا ہے کہ ایک دن مجھے ایسے ہی کچھ کفریہ وسوسے آ رہے تھے تو میں نے دل میں ہی سوچا کہ مرزا قادیانی پہ لعنتیں بھیجتا ہوں اور خود درود شریف پڑھنے لگ گیا اور دل میں ہی یہ سوچنے لگ گیا کہ میں اپنے نبی ﷺ پر جتنا درود پڑھوں گا مرزا قادیانی پر اتنی ہی لعنتیں برستی رہیں گی، کیا میرا ایسے کرنا درست تھا ۔ اب مجھے ڈر ہے کہ میں نے سوچا یہ تھا کہ مرزا قادیانی پہ لعنتیں بھیجتا ہوں اوردرود شریف پڑھنے لگ گیا اور دل میں ہی یہ سوچنے لگ گیا کہ میں اپنے نبی ﷺ پر جتنا درود پڑھوں گامرزا قادیانی پر اتنی ہی لعنتیں برستی رہے گی ،اس جملے میں ،میں نے کہیں درود شریف کی توہین نہ کر دی ہو کہ مرزا قادیانی پر لعنتوں کا کہہ کردرود شریف پڑھنے لگ گیا۔
جواب
واضح رہے کہ غیر اختیاری طور پر جو وساوس آتے ہیں ،ان پر کوئی مواخذہ اور گناہ نہیں جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے،البتہ اپنے اختیار سے کوئی برا خیال دل میں نہیں لانا چاہیےاور اگر غیر اختیاری طور پر آجائےتو اس کو دل میں جگہ نہ دی جائے یعنی زیادہ سوچا نہ جا ئے بلکہ پوری قوت سے اس کو دور کرنے کی کوشش کی جائے ،اور کسی نیک عمل میں مشغول ہوکر اس خیال کو جھٹلانے کی کوشش کی جائے، کیونکہ برے وساوس کو برا سمجھنے کے ساتھ ساتھ اپنے ایمان کے بارے میں فکر مند ہونا در حقیقت ایمان ہی کی علامت ہےاور ایسے ہی وسوسوں کے متعلق صحابہ کرام نے بھی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ذکر کیا تھا اور ایمان کو خطرہ لاحق ہونے کا ذکر کیا تھا،آپ ﷺنے ان کی پریشانی سن کر ان سے پوچھا:کیا واقعی ایسے وساوس تم کو آتےہیں؟صحابہ نے عرض کیا :جی ہاں،ایسے وساوس آتے ہیں۔آپﷺنےفرمایا:"یہ تو صریح ایمان ہے"(الصحیح المسلم)
صورت مسئولہ میں سائل کا وساوس کو دفع کرنے کے لیےکثرت سےدرود شریف کے پڑھنا درست عمل ہے، نیز درود شریف کے ورد کے ساتھ مرزا قادیانی پر لعنت کا سوچ آنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں اوردل میں یہ خیال آنا کہ کہیں اس میں درود شریف کی توہین تو نہیں ،یہ محض وسوسہ ہے،اس کی طرف توجہ نہ جائے۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «إن الله تجاوز لي عن أمتي ما وسوست به صدورها، ما لم تعمل أو تكلم»(الصحيح البخاري،باب الخطإ والنسيان في العتاقة والطلاق ونحوه، ولا عتاقة إلا لوجه الله،ج:3ص:145)
عن أبي هريرة قال :جاء ناس من أصحاب النبّي صلى الله عليه وسلم إلى النبي صلى الله عليه وسلم فسألوه:إنا نجد في انفسنا ما يتعاظم أحدنا أن يتكلم به، قال: "أوقدوجدتموه" قالوا :نعم قال: "ذلك صريح الإيمان"۔ وعنه، قال:قال رسول الله صلي الله عليه وسلم:"يأتي الشيطان أحدكم،فيقول:من خلق كذاو كذا؟حتي يقول له:من خلق ربك؟ فإذا بلغ ذلك؛ فليستعذ بالله ولينته". (الصحيح لمسلم، كتاب الإيمان، باب بيان الوسوسة في الإيمان،ج1،ص:(17
وقال الحفني ملخصاً لكلام السبكي الكبير في الحلبات: إن المراتب خمسة: هاجس وخاطر وحديث نفس وهم وعزم، فالشيء إذا وقع في القلب ابتداءً ولم يحل في النفس سمي ''هاجساً''، فإذا كان موفقاً ودفعه من أول الأمر لم يحتج إلى المراتب التي بعدها: فإذا جال أي تردد في نفسه بعد وقوعه ابتداء ولم يتحدث بفعل ولا عدمه سمى ''خاطراً''، فإذا حدثته نفسه بأن يفعل أو لا يفعل على حد سواء من غير ترجيح لأحدهما على الآخر سمي ''حديث نفس''، فهذه الثلاثة لا عقاب عليها إن كانت في الشر، ولا ثواب عليها إن كانت في الخير، فإذا فعل ذلك عوقب أو أثيب على الفعل لا على الهاجس والخاطر وحديث النفس، فإذا حدثته نفسه بالفعل وعدمه مع ترجيح الفعل لكن ليس ترجيحاً قوياً بل هو مرجوح كالوهم سمي ''هماً''، فهذا يثاب عليه إن كان في الخير، ولا يعاقب عليه إن كان في الشر، فإذا قوي ترجح الفعل حتى صار جازماً مصمماً بحيث لا يقدر على الترك سمي ''عزماً''، فهذا يثاب عليه إن كان في الخير، ويعاقب عليه إن كان في الشر.(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،باب في الوسوسه، ج:1ص:141)