بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
غلطی سے قرآن کریم زمین پرگرنےسے ہدیہ دینےکا حکم
سوال
ایک خاتون کے ہاتھ سے غلطی سے قرآن کریم زمین پر گر گیا اس خاتون نے کسی کے ذریعے پیش امام صاحب سے گزارش کی کہ اب میں کیا کروں پیش امام صاحب نے کہا کہ کسی کو ہدیہ میں 1000 روپے دے دو اور توبہ کر لو اللہ تعالیٰ غفور ہے رحیم ہے معاف کرنے والا ہے آپ کو معاف کر دے گا، معلوم یہ کرنا ہے کہ اب وہ ہزار روپے کا کیا کرے؟
جواب
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اس لیے اس کے واجب الاحترام ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں اور قصداً اس کی اہانت کرنا کفر ہے، لیکن اگر بغیر قصد و ارادہ کے کسی سے گر جائے تو اس سے گناہگار نہیں ہوگا، کیونکہ نبی کا فرمان مبارک ہے کہ "میری امّت سے خطا اور نسیان معاف کیا گیاہے"۔ لہذا اس پر کچھ ہدیہ دینا لازم نہیں۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر قرآن مجید غلطی سے گرا ہو تو اس پر وہ گناہگا ر نہیں اور نہ اس پر کوئی ہدیہ لازم ہے، تاہم اگر صدقہ کے طورپر کچھ دینا چاہے تو دے سکتی ہے۔
حدثنا أحمد بن محمد بن يحيى بن حمزة، ثنا إسحاق بن إبراهيم أبو النضر، ثنا يزيد بن ربيعة، ثنا أبو الأشعث، عن ثوبان، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إن الله تجاوز عن أمتي ثلاثة: الخطأ، والنسيان، وما أكرهوا عليه." (المعجم الكبير للطبراني، رقم الحديث:1430، ج:2، ص:97)
فإن فعل ذلك استخفافا واستهانة بالدين فهو أمارة عدم التصديق ولذا قال في المسايرة: وبالجملة فقد ضم إلى التصديق بالقلب، أو بالقلب واللسان في تحقيق الإيمان أمور الإخلال بها إخلال بالإيمان اتفاقا، كترك السجود لصنم، وقتل نبي والاستخفاف به، وبالمصحف والكعبة. ( رد المحتار، باب المرتد، ج:6، ص:356)