بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
کام کرنے کے بعداپنی رقم کی وصولی کے لئے رشوت کا سہارا لینا
سوال
ہمارا ایک ڈیزائن کنسلٹنسی فرم ہے جو پچھلے 22سال سے بلڈنگ ڈیزائن میں مختلف شعبہ جات میں خدمات سرانجام دے رہاہے جس میں مساجد اورمدرس کے ساتھ ساتھ ہسپتال،گھر،ہوٹلز اور کمرشنل بلڈنگ شامل ہیں ،چونکہ ہمارے زیادہ ترکام پرائیوٹ سیکٹر سے جڑے ہوتے ہیں اور عرصہ دراز سے منسلک ہیں۔ ہمارے فرم نے زیادہ ترگورنمنٹ سیکٹر میں کچھ وجوہات کی وجہ سے کام کرنے سے گزیرکیا لیکن اب پرائیوٹ سیکٹر جو پچھلے دو سال سے ملک کی معاشی صورت حال کی وجہ سے کام بالکل رکا ہوا ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے جس کے ڈائریکٹ اثرات ہمارے فرم پر پڑے ہیں اور مسلسل نقصان میں جارہاہے اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے گورنمنٹ سیکٹر جانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس میں کام ملنے کے بعدرقم کی وصولی کے لئے اپنا بل جمع کرتے ہیں اور اسی کی وصولی کے لئےہم سے ناجائز پیسوں کی ڈیمانڈ کی جاتی ہے، تو کیا ہمارے لئےاس صورتحال میں رشوت دینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ رشوت لینےاور دینے والے پر رسولِ اکرم ﷺ نے لعنت فرمائی ہے، چنانچہ رشوت لینا اور دینا دونوں ناجائز ہیں،اس لیے حتی الامکان رشوت دینے سے بھی بچنا ضروری ہے، البتہ اگر کوئی جائز کام تمام لازمی تقاضوں کو پورا کرنے اور حق ثابت ہونےکے باوجود صرف رشوت نہ دینے کی وجہ سے نہ ہورہا ہو تو ایسی صورت میں حق دار شخص کو چاہیے کہ اولاً وہ اپنی پوری کوشش کرے کہ رشوت دیئےبغیر کسی طرح اس کا کام ہوجائے،اور جب تک کام نہ ہو اس وقت تک صبر کرے لیکن اگر ضرورت ہو اورکوئی دوسرا متبادل راستہ نہ ہو تو جائز حق کی وصولی کے لیے مجبوراً رشوت دینے کی صورت میں دینے والا گناہ گار نہ ہوگا، البتہ رشوت لینے والے شخص کے حق میں رشوت کی وہ رقم بہرحال ناجائز ہی رہے گی اور اسے اس رشوت لینے کا سخت گناہ ملے گا۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگرگورنمنٹ سیکٹر میں معیار کے مطابق کام کرنے کے بعد رقم کا استحقاق حاصل ہوجائےلیکن تمام قانونی تقاضوں کے باوجوداپنی رقم بلارشوت نہ ملے تو ایسی صورت میں چونکہ اپنا ہی ثابت شدہ حق وصول کرنا ہے لہذا اس کی وصولی کے لئےرشوت دینے کی گنجائش ہوسکتی ہےبشرطیکہ اس سے کسی اور کی حق تلفی لازم نہ ہو۔نیز اس پر توبہ بھی کرتے رہنا چاہیئے۔
عن عبد الله بن عمرو ، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي»(السنن للترمذی،باب ماجاء فی الراشی والمرتشی،رقم الحدیث:1337،ج:3،ص:615)
قال الملا علي القاري:(وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما) : بالواو (قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي»): أي: معطي الرشوة وآخذها، وهي الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلماً فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة؛ لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلايجوز لهم الأخذ عليه.(مرقاة المفاتيح،باب رزق الولاة،ج:6،ص:2437)
"دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه و ماله و لإستخراج حق له ليس برشوة يعني في حق الدافع .(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الحظر والإباحة،ج:6،ص:423)