بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

اجیر کا اجرت کے علاوہ پیسے لینا


سوال

کانوں میں لوڈر کےذریعے پتھر بھر نے والی  گاڑی سے لوڈر کی  مزدوری کے علاوہ  پیسے لیناجس کوعرف میں "ڈالا"کہا جاتا ہے،  یہ پیسےلوڈر والے  لیتےہیں،پھر  لوڈر والےاور مزدور ان پیسوں کو آپس میں تقسیم  کرتےہیں، یہ پیسے (ڈالا)لیناان کےلیے  جائز ہے یا نہیں؟اور یہ کام سب کانوں (درنگوں )میں ہوتا ہے۔نیز اگر مزدور اس گاڑی بھرنے کے دوران اس کے ٹائر وغیرہ کو پتھر رکھتے ہیں تو پھر اس کا کیا حکم ہے ؟ اور اگریہ  ٹھیک نہیں ہے، تو پھر اس کے جواز کی ٹھیک صورت کیا ہے؟

جواب

واضح رہے  کہ کسی مسلمان کا مال(پیسے وغیرہ ) اس کی رضامندی کے بغیر لیناجائز نہیں ،البتہ اگر دو افراد کے  درمیان پہلے سے  لین دین کا  معاہدہ ہوا ہو، یا مالک خود ہی کسی کو  رضامندی سے کچھ دے تو اس کا لیناجائز  ہوگا۔

صورت مسئولہ میں لوڈروالے اور مزدوراگر مالک کی رضامندی سے یا باقاعدہ عمل کے بدلےپیسے لیتے ہوں  تو جائز ہوگا ،ورنہ اگر اس میں مالک کی رضا مندی  شامل نہ ہو،بلکہ صرف علاقائی عرف و رواج  سے مجبور ہوکر یہ پیسے دینے پڑتےہوں،توپھر  مزدوروں اور لوڈر والوں کےلیے یہ لینا جائز نہ ہوگا۔

 

قال الله تبارك وتعالی:ﵟ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚ ﵞ (النساء: 29)

أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "‌لا ‌يحل ‌مال ‌امرئ ‌مسلم ‌إلا ‌بطيب ‌نفس منه".(مسند أبي يعلى الموصلي، مسند عم أبي حرۃ الرقاشي رضي الله عنه،رقم الحدیث:1570)

هي(أي:الإجارة) لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا:(تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض).(الدر المختار شرح تنوير الأبصار، کتاب الإجارۃ، ص:569)


فتویٰ نمبر : 6244/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور