بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مرد وعورت کے لئے سرمہ لگانے کا حکم


سوال

مردو عورت کے لیےسیاہ اور دیگر کسی بھی رنگ کا سرمہ استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سرمہ ایک مستحب  عمل ہے،رسول اللہ ﷺنے سرمہ لگانے کا حکم فرمایا ہے: ترجمہ : اثمد سرمہ لگاؤ ،کیونکہ اس سے نظر تیز ہوتی ہے اور بال بڑھتے ہیں ۔

سرمہ کی کوئی خاص قسم  مقرر نہیں ،بلکہ جو بھی آنکھوں کےلئے فائدہ مند ہو لگا سکتے ہیں،البتہ عرب میں عام استعمال کی وجہ سے  نصوص  میں اکثر اثمد کا ذکرآیا ہے۔سرمہ لگانے کے دوفوائد حدیث میں مذکورہیں:اس سے  نظر تیز ہوتی ہے،اوربال بڑھتے ہیں۔

عورت کے لئے سب  قسم کے سرمہ کا استعمال جائزہے ،البتہ مرد کے لئے اثمد میں توکوئی حرج نہیں ،لیکن سیاہ سرمہ اگر زینت  و تفاخر  کی نیت سے لگائے گا تو مکروہ ہے۔

 

عن ابن عبَّاسٍ رضي الله عنهما؛ أنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم قال:‌اكْتَحِلوا ‌بالإثْمِدِ؛ ‌فإنَّه ‌يَجلو ‌البصرَ، ‌ويُنبتُ ‌الشعَر". (ترمذی باب ما جاء في الاكتحال ،ج٢،رقم الحدیث٢١٠٤)

  عن أم عطية يشير إلى حديث أم عطية مرفوعا لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر تحد فوق ثلاث إلا على زوج فإنها لا تكتحل وقد تقدم في أبواب العدة لكن لم أر في شيء من طرقه ذكر الإثمد فكأنه ذكره لكون العرب غالبا إنما تكتحل به وقد ورد التنصيص عليه في حديث بن عباس رفعه اكتحلوا بالإثمد فإنه يجلو البصر وينبت الشعر أخرجه الترمذي وحسنه واللفظ له وبن ماجة وصححه بن حبان(فتح الباري  في شرح صحيح البخاري،باب الاثمدوالكحل من الرمد،ج١٠،ص١٥٧)

لا بأس بالإثمد للرجال باتفاق المشايخ ويكره الكحل الأسود بالاتفاق إذا قصد به الزينة واختلفوا فيما إذا لم يقصد به الزينة عامتهم على أنه لا يكره كذا في جواهر الأخلاطي(الفتاوی الهنديه،ج٥،ص٣٥٩ )


فتویٰ نمبر : 5785/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور