بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تين طلاقوں كے بعد حلالہ کاحکم


سوال

 میرا بیٹا باہر ملک   میں ہے بیوی سے فون پرباتوں کے دوران  جھگڑا ہو ا اور تین طلاق دے دی ۔ اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ  کسی کو پتہ نہ چلے تو کیا یہ بیوی ہمارے یعنی شوہر کے گھر عدت گزار سکتی ہے یانہیں ؟ اور کیا  عدت گزارنے کے بعد میرے دوسرے بیٹے سے نکاح کرکے پہلے شوہر کےلیے حلال ہو سکتی  ہے یا نہیں ؟

جواب

شوہر اگر اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے تو  وہ حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے ، اس کے بعد شوہر کے لیے رجوع  یا تجدیِد نکاح کرنا جائز نہیں ، تاہم اگر  وہ عورت عدت گزارنے کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کرے اور وہ اس سے ہم بستری کرنے کے بعد   طلاق دے دے یا مرجائے   اور عورت اس دوسرے شوہر کی  عدت گزار دے تو اس کے بعد  پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔ نیز عورت خاوند کی طلاق کے بعد عدت اپنے شوہر کے گھر گزارے گی ۔

لہذاصورت مسئولہ میں اگر خاوند نے اپنی بیوی کوواقعی  تین طلاقیں دی ہیں ۔تو وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزار کر خاوند کے بھائی کے ساتھ نکاح کرکے حقوق زوجیت ادا کرنے کے بعد اگروہ  اس کو طلاق دےدے تو عدت گزارنے کے بعد اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ نکاح کرسکتی ہے ۔

 

قال الله تعالی:فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ ‌حَتَّىٰ ‌تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۗ وَتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ۔(البقرة:230)

(‌وتعتدان) ‌أي ‌معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه.(الدر المختار: شرح تنوير الأبصار،ج:3،ص:536)


فتویٰ نمبر : 6891/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور