بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

"انسان اللہ کا کنبہ ہے "کہنے کا حکم


سوال

انسان اللہ کا کنبہ ہے کیا ایسا کہنا جائز ہے؟ کنبہ کا مطلب خاندان ہوتا ہے جبکہ خاندان میں کوئی جننے والا ہوتا ہے اور کوئی جنا ہوتا ہے۔ 

جواب

حضرت انسؓ اور عبد اللہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا  :"مخلوق اللہ تعالی کاعیال ( کنبہ) ہے ،لہذا اللہ تعالی کے نزدیک مخلوق میں سے پسندیدہ وہ ہے جواللہ تعالی کے عیال (کنبہ) کے ساتھ حسن سلوک کرے" ملا علی قاریؒ مذکورہ حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ کسی شخص کا عیال وہ ہے جن کی وہ نگہداشت کرتا ہے اور ان کا نان نفقہ اس پر ہو۔ اس اعتبار سے مطلب یہ ہوا  کہ سب انسان اللہ تعالی کی زیر کفالت ہیں یعنی انسان کا رزق  اللہ تعالی کے ذمے ہے۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق "انسان اللہ کا کنبہ ہے"کہنا جائز ہے،اس میں کنبہ خاندان کے معنی میں نہیں  بلکہ زیر کفالت کے معنی میں ہے۔

 

عن انس وعن عبد الله قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الخلق عيال الله فأحب الخلق إلى الله من أحسن إلى عياله» . روى البيهقي الأحاديث الثلاثة في «شعب الإيمان»(مشكاة المصابيح،كتاب الاداب،باب الشفقة و الرحمة،ج:2،رقم الحديث:3998)

 («‌الخلق ‌عيال ‌الله» ) : عيال المرء بكسر العين من يعوله، ويقوم برزقه وإنفاقه، وهو بالنسبة إلى غيره مجاز صورة، وإلا فهو الرزاق كما أنه هو الخلاق۔( مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،كتاب الاداب،باب الشفقة و الرحمة،ج:9، ص:731)


فتویٰ نمبر : 5769/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور