بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
قبر ميں نماز اور روزے كی سفارش
سوال
جو شخص دنیا کی زندگی میں نماز پڑھتا ہو اور ساتھ ساتھ روزہ بھی رکھتا ہو تو کیا مرنے کے بعد قبر میں نما ز اور روزہ اس کی سفارش کر کے عذاب قبر سے اس کو بچائیں گے ،اس طرح کی کوئی حدیث کیا موجود ہے؟
جواب
واضح رہے کہ ارکان اربعہ میں سے سب سے پہلا درجہ نماز کا ہے اس کے بعد روزے کا ہے ، نماز اور روزے کے فضائل میں سے ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ ؓ نےنبی کریم ﷺسے روایت کی ہے کہ "میت جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو وہ (تدفین کے بعد)واپس پلٹنےوالے لوگوں کے جوتوں کی آواز سنتاہے اگر میت مومن ہو تو نماز اس کے سر کے پاس ، روزہ دائیں طرف، زکوٰۃ بائیں طرف اور دوسرے نیک اعمال (مثلاً) صدقہ، نوافل، لوگوں کے ساتھ بھلائیاں اور حسن سلوک پاؤں کی طرف سے اس کی حفاظت کرتے ہیں فرشتہ عذاب کے لیے سر کی طرف سے آتا ہے تو نماز کہتی ہے میری طرف سے راستہ نہیں (کسی دوسری طرف سے آؤ) پھر فرشتہ دائیں طرف سے آتا ہے تو زکوۃ کہتی ہے میری طرف سے راستہ نہیں ہے ،(کسی دوسری طرف سے آؤ )پھر فرشتہ پاؤں کی طرف سے آتا ہے تو دوسری نیکیاں ،صدقہ و خیرات ،صلہ رحمی لوگوں کے ساتھ بھلائیاں اور احسان وغیرہ کہتے ہیں کہ میری طرف سے راستہ نہیں (کسی دوسری طرف سے آؤ )۔
نماز و روزے کی طرح نماز ادا کرنے کے لیے مسجد کی طرف چل کر جانے والے قدم بھی انسان کو عذاب سے بچانے کے لیے سفارش کرتے ہیں ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا :"آدمی جب قبر میں دفن کیا جاتا ہے تو فرشتہ سر کی طرف سے عذاب دینے کے لیے آتا ہے تو تلاوت قرآن اسے دور کر دیتی ہے ،جب فرشتہ سامنے سے آتا ہے تو صدقہ و خیرات اسے دور کر دیتے ہیں اور جب پاؤں کی طرف سے آتا ہے تو مسجد کی طرف چل کر جا نااسے دور کر دیتا ہے ۔
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " إن الميت يسمع خفق نعالهم إذا ولوا مدبرين، فإن كان مؤمنا كانت الصلاة عند رأسه، وكان الصوم عن يمينه، وكانت الزكاة عن يساره، وكان فعل الخيرات من الصدقة والصلاة والصلة والمعروف والإحسان إلى الناس عند رجليه، فيؤتى من قبل رأسه فتقول الصلاة: ما قبلي مدخل، ويؤتى من عن يمينه، فيقول الصوم ما قبلي مدخل، ويؤتى من عن يساره فتقول الزكاة ما قبلي مدخل، ويؤتى من قبل رجليه فيقول فعل الخيرات ما قبلي مدخل.(المستدرك على الصحيحين، كتاب الجنائز، رقم الحديث:1403)
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: والذي نفسي بيده، إنه ليسمع خفق نعالهم حين يولون عنه، فإن كان مؤمنا كانت الصلاة عند رأسه، والزكاة عن يمينه، والصوم عن شماله، وفعل الخيرات والمعروف والإحسان إلى الناس من قبل رجليه، فيؤتى من قبل رأسه، فتقول الصلاة: ليس قبلي مدخل، فيؤتى عن يمينه، فتقول الزكاة: ليس من قبلي مدخل، ثم يؤتى عن شماله، فيقول الصوم: ليس من قبلي مدخل، ثم يؤتى من قبل رجليه، فيقول فعل الخيرات والمعروف والإحسان إلى الناس: ليس من قبلي.(المعجم الاوسط للحافظ الطبراني،رقم الحديث:2651، ج:3،ص301)
عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "يؤتى الرجل في قبره؛ فإذا أتي من قبل رأسه دفعه تلاوة القران، وإذا أتي من قبل يديه دفعه الصدقة، وإذا أتي من قبل رجليه دفعه مشيه إلى المساجد، والصبر حجزة"، وقال: "أما لو رأيت خللا لكنت صاحبه.(المعجم الاوسط للحافظ الطبراني،رقم الحديث:9434، ج:10)