بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
سرکاری ملازم کا زکوۃ لینا
سوال
اگر کوئی شخص سرکاری ملازم ہو اور مشکل سے گھر کا خرچہ چلارہا ہو کمرے میں اے ،سی اور ایل ،سی ،ڈی رکھتا ہو اس کے علاوہ تقریبا ڈھائی لاکھ (250000) کا قرضدار بھی ہو تو کیا وہ شخص زکوۃ لے سکتا ہے؟
جواب
شرعی نقطہ نظر سے زکوۃ لینے کا مستحق وہ شخص ہے جو صا حب نصاب نہ ہو ، اگر کسی شخص کے پاس نصاب کے بقدر مال موجود ہو تو ایسے شخص کے لیے زکوۃ لینا جا ئز نہیں ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص سرکاری ملازم ہو لیکن اس کی گھر یلو ضروریات اس کی تنخواہ سے مشکل سے پوری ہوتی ہوں اور اس کے علاوہ اس کے ساتھ بقدر نصاب مال موجود نہ ہو ، تو ایسے شخص کے لئے زکوۃ لینا جا ئز ہے ۔
قال الله تعالی: إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ. (التوبة،الآية:60)
ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من ذلك وإن كان صحيحا مكتسبا. (الفتاوى الهندية،كتاب الزكاة،الباب السابع في المصارف:1/179)