بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ہبہ میں شرط لگانا


سوال

بعض لوگ ہمیں کچھ پیسے ہبہ کرتے ہیں اور وہ مقید کرتے ہیں کہ اس سے کپڑے خرید لو تو کیا ہم اس کو دوسری ضروریات میں خرچ کر سکتے ہیں؟

جواب

جب کوئی شخص کسی  کو کوئی چیز ہبہ کردے اور موہوب لہ اس پر قبضہ کرلےتو  موہوبہ چیز موہوب لہ کی ملکیت میں داخل ہو جاتی ہےاور موہوب لہ اس کا مالک بن جاتا ہے چنانچہ پھر وہ اس میں جائز تصرفات کا حق رکھتا ہے۔

صورت مسئولہ  کے مطابق اگر کوئی کسی کو رقم ہبہ میں دے اور ساتھ ہی یہ شرط لگائے کہ اس رقم سے کپڑے خریدلو،تو  موہوب لہ پر واہب کی طرف سے لگائی گئی شرط کی رعایت رکھنا ضروری نہیں، کیونکہ موہوب لہ اس رقم پر قبضہ کر لینے سےاس کا مالک بن جاتاہے ،چنانچہ وہ اس رقم کو کپڑے خرید نے کے علاوہ اپنی دوسری ضروریات میں  بھی خرچ کرسکتا ہے،البتہ اس کی دلجوئی کے لیے وہی چیز خرید لے تو بہتر ہے۔

 

"قال أصحابنا جمیعا:إذا وھب ھبة وشرط فیھاشرطا فاسدا فالھبةجائزة والشرط باطل وإن وهب لرجل أمة على أن يردها عليه، أو على أن يعتقها، أو على أن يستولدها، أو وهب له دارا، أو تصدق عليه بدار على أن يرد عليه شيئا منها، أو يعوضه شيئا منها، فالهبة جائزة، والشرط باطل"۔ (الفتاوی الھندیة،کتاب الھبة،الباب الثامن فی حکم الشرط فی الھبة،ج:4،ص:443)


فتویٰ نمبر : 5793/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور