بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سبعہ قرأت میں چھوٹے بچے کو مشق کرانا


سوال

ایک ادارہ میں سبعہ قرأت کے ایک ماہر و بارع قاری صاحب نے ایک چھوٹے بچے کو بالکل اچھے انداز میں سبعہ قرأت میں سورۃ فاتحہ کی مشق کرائی اور صرف مدرسہ کے سالانہ پروگرام میں پڑھنے کی اجازت دی ہے تو کیا وہ طالب علم قاری صاحب کی رہنمائی سے سالانہ اجلاس میں سبعہ قرأت میں تلاوت کرسکتا ہے ؟قاری صاحب کا بیان ہے کہ کہ یہ تلاوت صرف اس وجہ سے ہے کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ قرآن مجید کو پڑھنے کے اور طریقے بھی ہیں؟

جواب

واضح رہے قرآن مجید کو قرأت سبعہ متواترہ میں  سے کسی ایک قرأت میں  پڑھنا جائز ہے لیکن مجمع عام میں اس کا پڑھنا مناسب نہیں اس لیے کہ عام لوگ قرآن کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتے ہیں جس سے فتنہ کا اندیشہ ہے ، اسی اندیشہ  كے پيش نظر حضرت عثمان  نے جمع قرآن کا عمل کیا ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق کسی سے مدرسہ کے سالانہ پروگرام میں سورۃ فاتحہ کی قرأت "سبعہ" کے مطابق کرنا جائز ہے البتہ عوام میں مشہور و معروف  روایت حفص کے مطابق ہی پڑھنا بہتر ہے ،تاکہ لوگ کسی تشویش اور غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو ں  اور ایسی باتیں نہ کر بیٹھیں   جو قرآن کے مناسب نہ ہو ں۔

 

وقراءة القرآن بالقراءات السبع والروايات كلها جائزة، ولكنی اری الصواب أن لا يقرأ بالقراءة العجيبة بالإمالات وبالروايات الغريبة؛ لأن بعض الناس يتعجبون، و بعضهم يتفكرون، وبعضهم يخطئون، وبعض السفهاء يقولون مالا يعلمون.(الفتاوي التاتاخارنية، كتاب الصلاة، ج:2، ص:72 )

قراءة القرآن بالقراءات السبعة والروايات كلها جائزة ولكني أرى الصواب أن لا يقرأ القراءة العجيبة بالإمالات والروايات الغريبة. (الفتاوی الهندية، ج:1، ص:79)


فتویٰ نمبر : 5800/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور