بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کمپیوٹر میں کریک سافٹ وئیر ڈالنے کی اجرت لینا


سوال

مجھے کمپیوٹر میں سافٹ وئیر ڈالنا آتا ہے اور میری دکان ہے لیکن عام طور پر لوگ ان سافٹ وئیر کی قیمت ادا نہیں کرسکتے ہیں تو ہم ان کو کریک والے ورزن ڈالتے ہیں ،اور یہ کریک والا ڈالنا بھی ہر کسی کو نہیں آتا اس کا خاص طریقہ ہوتا ہےاس پر ہم ان سے رقم لیتے ہیں یعنی  جو کام کرکے دیتے ہیں اس کےپیسے لیتے ہیں نہ کہ سافٹوئیر کے لیکن وہ سافٹوئیر کریک کر کے دیتے ہیں یہ کام ہم سے مولوی حضرات بھی کرواتےہیں اور قاری صاحبان بھی کیونکہ ان کو نہیں آتا تو کیا میرا ایسا کرنا یعنی ان کو کریک سوفٹوئیر دینا  اور ان کو کمپیوٹر میں ڈالنا اور ان سے پیسے لینا جائز ہے يا نہیں اور یہ بھی بتایےکہ کیا اس میں کوئی گناہ ہے کہ نہیں اگر فری میں دئے جائیں  یا پیسے لے کر دونوں کا بتادیں اس میں گناہ ہے کہ نہیں؟

جواب

واضح رہے ہر انسان کے جان ،مال اور عزت کو تحفظ حاصل ہے لہذا کسی بھی آدمی کی مملوکہ چیز کو اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں۔

صورت مسؤلہ كے  مطابق اگر "سافٹ وئير" کمپنی کی جانب سے مفت دستياب ہو اور اس کے استعمال پر ان کی طرف سے پابندی نہ ہو تو اس کو استعمال کرنا ،  دوسروں کے کمپیوٹر میں بلا عوض ڈالنا  یا  اس پر عوض لے کر ڈالنا  جائز ہے ،لیکن  اگر مالک کمپنی کی جانب سے سافٹ وئیر کو کاپی کرنے کی اجاز ت نہ ہو  تو اس صورت میں سافٹ وئیرکو   کريك کرکے اس كا استعمال كرنا   اوردوسروں كے كمپيوٹر ميں ڈال كر  اس کا عوض لینا جائز نہیں۔

 

وَعَن أبي حرَّة الرقاشِي عَن عَمه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «أَلا تَظْلِمُوا ‌أَلَا ‌لَا ‌يَحِلُّ ‌مَالُ ‌امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان وَالدَّارَقُطْنِيّ فِي الْمُجْتَبى.(مشكاة المصابيح، کتاب البيوع باب الغصب والعارية، ج:1، ص:261)

‌لَا ‌يَجُوزُ ‌لِأَحَدٍ ‌مِنْ ‌الْمُسْلِمِينَ ‌أَخْذُ ‌مَالِ أَحَدٍ بِغَيْرِ سَبَبٍ شَرْعِيٍ. (البحرالرائق،فصل في التعزير، ج:5، ص:68)

لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك غير بلا إذنه، أووكالةمنه، أو ولاية منه. (شرح المجلة لخالدالأتالسي،مادة:96، ج:1، ص:262)


فتویٰ نمبر : 5764/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور