بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
تقسيم ميراث سے پہلےوارث کا اپنے حصہ کو معاف کرنا
سوال
کیا تقسیم میراث سے پہلے وارث اپنے حصئہ میراث سے دستبر دار ہو سکتا ہے، اورکیا دستبرداری کے بعداسے رجوع کرنے کا حق حاصل ہو تاہے؟
جواب
میراث ایک اضطراری حق ہے، جو کسی کے ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتا ،اس لیے میراث کی تقسیم سے پہلے کسی وارث کا اپنے شرعی حصہ کو معاف کرنا شر عا معتبر نہیں، چنانچہ اگر کوئی وارث تقسیم میراث سے پہلے اپنے حق سے دستبردار ہو جائے تو یہ دستبرداری معتبر نہیں اور اسے مطالبے کا حق حاصل ہوگا البتہ ترکہ تقسیم ہو جائے، تو پھر ہر وارث اپنے حصے پر قبضہ کرنے کے بعداس میں جا ئز تصرف کر سکتا ہے ،چنانچہ پھراگر اپنے حصے سےکسی کے حق میں دستبردار ہونا چاہے توشرعا اس میں کوئی حرج نہیں اور ایسی صورت میں اسےبعد میں رجوع کرنے کا حق حاصل نہیں ہو تا۔
"الارث جبري لا يسقط بالاسقاط.(تكملۃ ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الدعوی،باب التحالف،ج:11، ص:378)
"لو قال الوارث:تركت حقي لم يبطل حقه إذ المللك لا يبطل بالترك۔ "(شرح الأشباه والنظائر،ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لايقبله،ج:3،ص:52)