بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

صفات باری تعالی کے بارے میں ایک شبہ


سوال

کیا یہ کہنا درست ہے، کہ حضور اکرم ﷺ(جو کہ اللہ کی مخلوق ہے)کی وجہ سے ہمیں قرآن(جو کہ اللہ کی صفت ہے)ملا ہےاگر رسول ﷺنہ ہوتے تو قرآن نہیں نازل ہوتا،کیا اللہ کی صفات کو کسی مخلوق کی ضرورت ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جس طرح اللہ تعالی کی ذات  ہر قسم کے عجز واحتیاج سے منزہ ومبرا ہے  بالکل اسی طرح ذات باری تعالی کی صفات  میں بھی عجز واحتیاج کا کوئی عنصر نہیں پا یا جا تا ،کائنات کو جب سے وجود ملا ہے ،تب سے اس میں جتنے بھی امور وواقعات رونما ہو رہے ہیں ،سب اللہ تعالی کی صفات کے آثار ومظاہر ہیں ،  اور اللہ تعالی  اکیلے ہی  ان کی تدبیر کر تا ہے،جس طرح اللہ  تعالی کی منشأ ہو تی ہے  اسی طرح ہو تا ہے ، اس کے خلاف ہو نا  محال ہے    چنانچہ آپ ﷺ  پر امت کی ہدایت ورہنمائی کے لیے قرآن کریم کا نزول بھی در اصل صفت رحمت وحکمت کا مظہر ہے،چونکہ سب انسان   فرداًفرداً   وحی الٰہی سے براہ راست  استفا دہ کر نے سے عاجز  تھےاس لیےاللہ تعالی نے  نبی علیہ السلام کو  مبعوث فرمایا تا کہ انسان کے لیے ہم جنس کے ذریعے   وحی الٰہی سے استفادہ کرنا   ممکن ہو،اور آپﷺ نےاللہ تعالی کی مشیت وارادہ  کے تحت ہی تبلیغ وحی الٰہی کا فریضہ سرانجام دیا۔ گویا  قرآن کے  نزول کے لیے رسول اللہﷺ کو مبعوث فرمانے  کی اصل ضرورت انسان کو تھی نہ کہ باری تعالی کو ، لہٰذا  آپ ﷺ کو مبعوث فرمانے اور آپﷺپر قرآن نازل کرنے کے بارے میں یہ   خیال کرنا  کہ اللہ تعالی کی صفات کو مخلوقات کی ضرورت ہے ،جائز نہیں ۔

 

قال الله تعالى: ﴿لقَدْمَنَّ اللَّـهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَ‌سُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ۔۔۔﴾الأية (أل عمران: 164)

"ذالك بأنه على كل شيئ قدير،وكل شيئ إليه فقير، وكل أمر عليه يسير،لا يحتاج إلى شيئ." ﴿ليس كمثله شيئ وهو السميع البصير﴾.(متن العقيدة الطحاوية، ص:8)

"وكل شيئ يجري بتقديره ومشيئته، ومشيئته تنفذ،لا مشيئة للعباد إلا ما شاء لهم،فما شاء لهم كان ، وما لم يشأ لم يكن." (متن العقيدة الطحاوية، ص:9)  

"وكأنه استفاد هذا المعنى من سورة الإخلاص على صورة الاختصاص.﴿ قل هو الله أحد﴾أي متوحد في ذاته، متوحد في صفاته﴿الله الصمد﴾أي المتستغني عن كل أحد، والمحتاج إليه كل أحد." (منح الروض الأزهر في شرح الفقه الأكبر، الله واحد لا من طريق العدد، ج: 1، ص:60)


فتویٰ نمبر : 5859/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور