بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
گناہ سے بچنے کی نذر مان کر اس میں مبتلا ہونے کی صورت میں کفارہ قسم
سوال
اگر کوئی شخص دعا میں ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالی سے اس بات کا عزم کرے کہ اگر میں نے یہ گناہ دوبارہ کیا تو اتنی رقم صدقہ کروں گا اور پھر اس سے وہ گناہ صادر ہو جائے تو اس کے پاس اتنی رقم بھی نہیں جو وہ ادا کر سکے تو کیا قسم کا کفارہ دینا پڑے گا یا نہیں ، نیزدعا کے وقت اس نے قسم کے الفاظ نہيں کہے صرف اس بات کا عزم کیاہے؟
جواب
واضح رہے کہ اگر نذر کو ایسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائےکہ جس کا ہونا آدمی کو مطلوب ہو،تووہ فقط نذر ہوگی،اور اگر ایسی شرط ہو کہ جس کا واقع ہونا آدمی کو مطلوب نہ ہو بلکہ اس سے باز رہنا مقصود ہو،تو یہ ایک اعتبار سے نذر اور دوسرے اعتبار سے قسم ہوگی، لہذا اگرچاہے تو نذر ادا کردے یا قسم کا کفارہ ادا کردے۔
صورت مسئولہ میں مذکورہ الفاظ کہ "اگر میں نے یہ گناہ دوبارہ کیا تو اتنی رقم صدقہ کروں گا"سے مقصود اپنےآپ کو گناہ سے باز رکھنا ہے ، لہذا اگر بعد میں وہ گناہ اس سے سر زد ہوجائےاوراتنی رقم نہ ہو کہ نذر ادا کرسکے،تو قسم کا کفارہ ادا کرنے سے بھی ذمہ فارغ ہوجائےگا۔
ومن نذر نذرا مطلقا فعليه الوفاء " لقوله عليه الصلاة والسلام: "من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى " " وإن علق النذر بشرط فوجد الشرط فعليه الوفاء بنفس النذر " لإطلاق الحديث ولأن المعلق بشرط كالمنجز عنده " وعن أبي حنيفة رحمه الله أنه رجع عنه وقال إذا قال إن فعلت كذا فعلي حجة أو صوم سنة أو صدقة ما أملكه أجزأه من ذلك كفارة يمين وهو قول محمد رحمه الله " ويخرج عن العهدة بالوفاء بما سمى أيضا وهذا إذا كان شرطا لا يريد كونه لأن فيه معنى اليمين وهو المنع وهو بظاهره نذر فيتخير ويميل إلى أي الجهتين شاء بخلاف ما إذا كان شرطا يريد كونه كقوله إن شفى الله مريضي لانعدام معنى اليمين فيه وهو المنع وهذا التفصيل هو الصحيح.(الهداية،كتاب الأيمان،فصل في الكفارة،ج:2،ص:747)