بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
طلاق قبل النکاح کا حکم
سوال
میں ایک برے فعل یعنی مشت زنی میں مبتلا تھا بہت تنگ ہو کر میں نے یہ بولا کہ اگر پھر میں نے دو جمعہ تک مشت زنی کی تو مجھ پر میری بیوی طلاق ہے میں نے ابھی تک صرف منگنی کی ہے شادی نہیں ہوئی ہے پھر ایک جمعہ بعد موبائل میں فحش فلمیں دیکھ رہا تھا میرا خود بخود احتلام ہوگیا ہا تھ بھی نہیں لگایا ہے کیا اب بیوی طلاق ہے ؟
جواب
واضح رہے کہ طلاق کے وقوع کے لئے زوجیت (نکاح)کا ہونا ضروری ہے ،لہذااگر کوئی شخص نکاح سے پہلے کسی عورت کو طلاق دے دے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگرمحض منگنی ہوئی ہو ، نکاح نہ ہوا ہو تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی نیزاگر نکاح ہوا ہو تب بھی چونکہ سوال میں مذکورہ فعل مشت زنی میں داخل نہیں اس لیے طلاق نہیں ہوئی ،تا ہم مشت زنی یا فحش مواد دیکھنا ایک برا اور قبیح فعل ہےاس سے توبہ اور استغفار لازمی ہے۔
عن علي بن أبي طالب، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:''لا طلاق قبل النكاح''۔(سنن ابن ماجہ حدیث2048)
فإن قال لأجنبية إن دخلت الدار فأنت طالق ثم تزوجها فدخلت الدار لم تطلق " لأن الحالف ليس بمالك۔(الهداية،كتاب الطلاق،باب الآيمان في الطلاق،ج:2،ص564)
وشرطه في الزوج أن يكون عاقلا بالغا مستيقظا، وفي الزوجة أن تكون منكوحته أو في عدته التي تصلح معها محلا للطلاق۔ (فتح القدير، كتاب الطلاق ،ج:3،ص:463)