بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

"کہ ستا دلاس روٹئ بیا ما وخوڑہ نو تابہ طلاقہ ساتم"کے الفاظ سے طلاق کا حکم


سوال

اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے"کہ ستا دلاس روٹئ بیا ما وخوڑہ نو تابہ طلاقہ ساتم"( اگر پھرتیرےہاتھ کی روٹی میں نے کھائی تو تجھے طلاق شدہ رکھوں گا) توشرعاً اس سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

جواب

اگر طلاق کو کسی شرط کے ساتھ مشروط کیا جائے توشرط پائے جانے پر طلاق واقع ہوجائے گی ۔صورت مسئولہ میں اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے "کہ ستا دلاس روٹئ بیا ما وخوڑہ نو تابہ طلاقہ ساتم"(اگر پھرتیرےہاتھ کی روٹی میں نے کھائی تو تجھے طلاق شدہ رکھوں گا)اور اس کےبعداس کے  ہاتھ کی روٹی کھائے توشرط پائے جانے سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی ۔

 

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا.(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق،الباب الرابع ،الفصل الثالث فى تعليق الطلاق،ج:1،ص:488)

وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية،أو تطليقين،فله أن يراجعها في عدتها.(الهداية،كتاب الطلاق،باب الرجعة،ج:2،ص:254)

أن من أقر بطلاق سابق يكون ذلك إيقاعا منه في الحال؛ لأن من ضرورة الاستناد الواقع في الحال، وهو مالك لإيقاع غير مالك للإستناد.(المبسوط للسرخسي،باب من طلاق،ج:6،ص:133)


فتویٰ نمبر : 6889/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور