بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

قران کے ختم کا ایصال ثواب کرنا


سوال

ایک قاری صاحب کو کسی نے قران خوانی کے لیے بلایا،قاری صاحب نے مختصر تلاوت کر کے کہا کہ میں نے اپنے طور پر قرانِ پاک کا ختم کیا تھا اور کسی کو بخشا نہیں،لہذا وہ ختم القران میں نے تمھارے مردہ کو بخش دیا۔آیا شریعت کی رو سے اس طرح ایصا ل ثواب کرنا درست ہےیا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ قران پاک کی تلاوت کا میت کوایصال  ثواب   کرنا جائز اور درست ہے احادیث مبارکہ  اور فقہاے کرام کی عبارات سے یہ بات  ثابت ہے کہ میت کو قران پاک اور نیک اعمال کا ایصال ثواب کرنا جائز ہے۔البتہ اس کو پیشہ بنا کر لوگوں کو بخشنا ٹھیک نہیں ۔

صورت مسؤلہ  میں قاری صاحب کا مختصر تلاوت کر کے یہ کہنا کہ میں نے ختم کیا ہے لیکن بخشا نہیں ہےیہ ایک رسمی بات معلوم ہوتی  ہے جس سے اس مبارک عمل کو پیشہ بنانے کا تأثر  ہوتا ہے ۔اس لیے اس قسم کی رسومات سے احتراز کرنا چاہیے۔

 

عن معقل بن يسار، قال: قال رسول -صلى الله عليه وسلم-: "اقرؤوا  يس  ‌على ‌موتاكم۔(سنن ابي داؤد،ج:5،ص:39،ص:3120)

والأصل ‌فيه ‌أن ‌الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو قراءة قرآن أو ذكرا أو طوافا أو حجا أو عمرة أو غير ذلك عند أصحابنا للكتاب والسنة. (البحر الرائق، ج:3، ص: 63)


فتویٰ نمبر : 5758/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور