بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
معذور کے لیے عمرہ کا حکم
سوال
ایک شخص کو پیشاب کے قطرے آتے رہتے ہیں وہ گھر پر کپڑےبدل کر نماز پڑھ لیتا ہے لیکن پھر بھی نماز کے درمیان اس کو قطرے آتے رہتے ہیںاور اس کو اتنا وقت نہیں ملتا کہ وہ قطروں کے بغیر پاکی کی حالت میں نماز ادا کرےاب وہ شخص عمرہ کے لیے جانا چاہتاہے اس کی کیا صورت ہے؟
جواب
اگر کسی شخص کو پیشاب کے قطرے نکلنے کی بیماری ہو اور یہ بیماری ایسی ہو کہ کسی ایک نماز کےپورے وقت میں اس کے لیے اتنا وقت بھی پاک رہنا ممکن نہ ہو جس میں وہ وضو کرکے فرض نماز پاکی کی حالت میں ادا کرسکے تو شریعت میں ایسا شخص معذور شمار ہوگا ۔لیکن اگر مرض ایسانہ ہو یعنی قطرے مسلسل نہ آتے ہوں بلکہ وقفہ وقفہ سے آتے ہوں اور درمیان میں وضو کرکے پاکی کی حالت میں نماز پڑھ سکتا ہوتو ایسا شخص معذور شمار نہیں ہوگا ۔پھر جو شخص معذور ہو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ ہر نماز کےوقت وضو کرکے اس وقت کےاندر تمام عبادات فرض ونفل ادا کرسکتا ہے ۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگرمذکورہ شخص کی کیفیت ایسی ہو کہ کسی ایک نماز کے پورے وقت میں اس کے لیے اتنا وقت پاک رہنا ممکن نہ ہوجس میں وہ وضو کرکے فرض نماز پاکی کی حالت میں ادا کرسکے تو ایسا شخص عمرہ ادا کرتے وقت فرض نماز کے وقت میں ایک مرتبہ وضو کرکے اس سے وقت کے اندرجتنے طواف کرنا چاہے کرسکتا ہے،جتنی نمازیں چاہے پڑھ سکتا ہے۔پھر جب دوسری نماز کا وقت داخل ہو جائے تو نیا وضو کرے گا۔اگر طواف کے درمیان نماز کا وقت ختم ہو جائےتو مطاف سے باہر نکل کر وضو کرکے واپس آکر وہیں سے طواف شروع کرے جہاں سے چھوڑا تھا ،البتہ اگر وقت گزرنے سے پہلے دو یا تین چکر ہوئے ہوں تو وضو کے بعد ازسر نو طواف کرنا افضل ہے۔
(وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه ...(إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلی فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لان الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (فی حق الابتداء، وفی) حق (البقاء كفی وجوده فی جزء من الوقت) ولو مرة
(وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحو (لكل فرض) (ثم يصلی) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالاولى.(ردالمحتار علی درالمختار،كتاب الطهارة،باب الحيض،ص:504،ج:1)
ولو خرج من الطواف أو من السعی إلی جنازه، أو مكتوبة، أو تجديد وضوء، ثم عاد، بنی لو كان ذلك بعد إتيان أكثره، ولو إستأنف لا شیء عليه...ويستحب الاستئناف فی الطواف إذا كان قبل إتيان أكثره...وصاحب العذر الدائم إذا طاف أربعة أشواط ،ثم خرج الوقت، توضأ وبنی، ولا شیء عليه، وكذا إذا طاف أقل منها إلا أن الإعادة حينئذ يستحب.(غنية الناسك فی بغية المناسك، باب الطواف، ص:127)